🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. استغفاره صلى الله عليه وآله وسلم لأهل البقيع
نبی کریم ﷺ کا اہلِ بقیع کے لیے استغفار کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4432
فقد حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب من أصل كتابه، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدّثني عبد الله بن ربيعة (1) ، عن عُبيدٍ مولى الحَكَم (1) ، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، عن أبي مُويهبة، عن رسول الله ﷺ نحوَه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4383 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے سیدنا ابو مویہبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح (جیسا کہ حدیث نمبر 4431 میں ذکر ہوا) فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4432]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4432] [ترقيم الشركة 4409] [ترقيم العلميه 4383]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4432 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: عُبيد بن أبي الحكم، فتحرفت كلمة "مولى" إلى: بن أبي، وسقط لفظ "أبي" من (م). وجاء على الصواب في "دلائل البيهقيّ" لكن زاد مُحققه من عنده ذكر أبيه، فقال: عن عبيد [بن حُنين] مولى الحكم، ولا يصح لأَنَّ جميع من رواه عن أحمد بن عبد الجبار عن يونس بن بكير لم يذكروا فيه أبا عُبيد، بل أطلقوه، فدلَّ على أن رواية يونس بن بكير دون تقييد.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام ’’عبید بن ابی الحکم‘‘ لکھا گیا ہے، چنانچہ لفظ ’’مولیٰ‘‘ تحریف ہو کر ’’بن ابی‘‘ بن گیا، اور نسخہ (م) سے لفظ ’’ابی‘‘ گر گیا۔ ’’دلائل البیہقی‘‘ میں یہ درست آیا ہے لیکن اس کے محقق نے اپنی طرف سے ان کے والد کے نام کا اضافہ کر دیا اور کہا: عن عبید [بن حنین] مولی الحکم۔ یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ وہ تمام راوی جنہوں نے اسے احمد بن عبدالجبار > یونس بن بکیر سے روایت کیا ہے، انہوں نے اس میں عبید کے والد کا ذکر نہیں کیا بلکہ مطلق (صرف عبید) رکھا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یونس بن بکیر کی روایت (والد کے نام کی) قید کے بغیر ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4432 in Urdu