🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. أحب الناس إلى النبى أبو بكر ثم عمر ثم أبو عبيدة .
نبی کریم ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب حضرت ابو بکرؓ تھے، پھر حضرت عمرؓ، پھر حضرت ابو عبیدہؓ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4497
أخبرنا بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيرفي بَمرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا حفص بن عمر حدثنا مِسعَر بن كِدام، عن عبد الملك بن عُمير، عن رِبْعِيّ بن حِراش، عن حُذيفة بن اليمان قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"لقد هَمَمْتُ أن أبعثَ إلى الآفاقِ رِجالًا يُعلِّمون الناسَ السننَ والفرائضَ، كما بَعَثَ عيسى ابن مريم الحَواريِّين"، قيل له: فأين أنت عن أبي بكر وعمر؟ قال:"إنه لا غِنَى بي عنهما، إنهما من الدِّين كالسمْعِ والبَصَرِ" (1) .
هذا حديث تفرَّد به حفص بن عمر العَدَني (1) عن مِسعَر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4448 - تفرد به حفص بن عمر العدني عن مسعر وهو واه
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ پوری دنیا میں اپنے آدمیوں کو بھیجوں جو لوگوں کو سنتوں اور فرائض کی تعلیم دیں جیسا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں کو بھیجا تھا۔ آپ سے کہا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کیوں نہیں بھیج دیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے بغیر میرا گزارا نہیں۔ کیونکہ یہ تو میرے کان اور آنکھ کی طرح ہیں۔ ٭٭ اس حدیث کو مسعر سے روایت کرنے میں حفص بن عمرالعدنی منفرد ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4497]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4497 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده واهٍ بمرَّة من أجل حفص بن عمر - وهو ابن دينار الأُبلِّي - فهو واهٍ كما قال الذهبي في "تلخيصه"، بل بعضهم كذَّبه كأبي حاتم والساجيّ.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حفص بن عمر (ابن دینار الابلی) کی وجہ سے ’’انتہائی کمزور‘‘ (واہ بمرۃ) ہے (جیسا کہ ذہبی نے تلخیص میں کہا)، بلکہ بعض (جیسے ابو حاتم اور ساجی) نے اسے جھوٹا کہا ہے۔
وأخرجه ابن عدي في "الكامل" 2/ 389، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 30/ 114 و 44/ 69 من طريق محمد بن سليمان بن الحارث الباغَنْدي، عن حفص بن عمر الأُبلِّي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عدی (الکامل 2/ 389) اور ابن عساکر (30/ 114، 44/ 69) نے محمد بن سلیمان بن الحارث الباغندی > حفص بن عمر الابلی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
ويُغني عنه حديثُ عبد الله بن المطّلب بن حَنْطب المتقدم برقم (4481)، وشاهداه المذكوران عنده.
📌 اہم نکتہ: اس سے عبداللہ بن المطلب بن حنطب کی گزشتہ حدیث (نمبر 4481) اور اس کے ذکر کردہ دو شواہد بے نیاز کر دیتے ہیں۔
(1) كذا قيَّده المصنف بالعَدَني، وإنما هو الأُبلّيُّ كما قُيِّد في رواية الباغندي عنه، فهو الصحيح، على أنَّ العَدَني ضعيف الحديث أيضًا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف نے اسے ’’العدنی‘‘ مقید کیا ہے، حالانکہ وہ ’’الابلی‘‘ ہے جیسا کہ الباغندی کی روایت میں مقید ہے، اور یہی صحیح ہے۔ ویسے ’’العدنی‘‘ بھی ضعیف الحدیث ہی ہے۔