🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. واقعة شهادة عمر - رضى الله عنه - وسببها .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ اور اس کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4562
حَدَّثَنَا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي وأبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، قالا: حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن شَبيب المَعْمَري، حَدَّثَنَا محمد بن عُبيد بن حِساب، حَدَّثَنَا جعفر بن سليمان، عن ثابت، عن أبي رافع قال: كان أبو لُؤلؤة للمغيرة بن شُعْبة، وكان يصنعُ الرَّحى، وكان المغيرةُ يستعملُه كلَّ يوم بأربعةِ دراهم، فلقي أبو لؤلؤة عُمرَ، فقال: يا أمير المؤمنين، إنَّ المغيرةَ قد أكثرَ عليَّ، فكلِّمَه أن يُخفَّفَ عني، فقال له عمر: اتقِ الله وأحسِنْ إلى مَوْلاك، قال: ومن نِيّةِ عمر أن يَلقَى المغيرةَ فيُكلِّمَه في التخفيف عنه، قال: فغضبَ أبو لؤلؤة، وكان اسمُه فَيرُوز، وكان نَصرانيًا، فقال: يَسَعُ الناسَ كلَّهم عدلُه غَيري، قال: فغضب وعَزَمَ على أن يقتلَه، قال: فصنع خِنجرًا له رأسان، قال: فشَحَذَه وسمَّه، قال: وكبّر عمرُ، وكان عمر لا يُكبّر إذا أُقيمتِ الصلاةُ حتَّى يتكلَّمَ ويقول: أقيموا صفُوفَكم، فجاء فقام في الصفّ بحِذاهُ مما يلي عمرَ في صلاة الغَدَاة، فلما أُقيمتِ الصلاةُ تكلَّم عمرُ، وقال: أقِيموا صفوفَكم، ثم كبّر، فلما كبّر وَجَأَهُ على كَتِفِه، ووَجَأَهُ على مكانٍ آخرَ، ووَجَأَه في خاصِرَتِه، فَسَقَطَ عمرُ، قال: ووَجَأَ ثلاثةَ عشرَ رجلًا معه، فأفرَقَ منهم سبعةٌ ومات منهم ستةٌ، واحتُمِل عمرُ فذُهِب به ومَاجَ الناسُ، حتَّى كادَتِ الشمسُ تَطلُع، قال: فنادى عبدُ الرحمن بن عَوْف: أيها الناس، الصلاةَ الصلاةَ، ففُزِع إلى الصلاة، قال: فتقدّم عبدُ الرحمن فصلَّى بهم، فقرأَ بأقصَرِ سورتَين في القرآن، قال فلما انصرف توجّه الناسُ إلى عمر بن الخطاب، قال: فدعا بشراب ليَنظُرَ ما مَدَى جُرحِه، فأُتي بنَبيذٍ، فشَرِبَه، قال: فخُرج فلم يُدْرَ أدمٌ هو أم نَبيذٌ، قال: فدعا بلَبَن، فأُتي به فشَربه، فخرج من جُرْحه، فقالوا: لا بأس عليك يا أمير المؤمنين، قال: إنْ كان القتلُ بأسًا، فقد قُتِلتُ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4512 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ابولؤلؤۃ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا۔ یہ چکیاں بنانے کا کاریگر تھا۔ سیدنا مغیرہ اس سے روزانہ چار درہم اجرت پر کام کروایا کرتے تھے۔ ابولولوۃ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور بولا: اے امیرالمومنین! مغیرہ نے مجھ پر (کام کا) بہت بوجھ ڈال رکھا ہے۔ اس کو فرمائیں کہ وہ مجھ پر کچھ تخفیف کر دے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: خدا کا خوف کر اور اپنے آقا کی فرمانبرداری کر۔ جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی نیت یہ تھی کہ مغیرہ سے مل کر تخفیف کرنے کو کہہ دیں گے۔ لیکن ابولؤلؤۃ کو اس بات پر غصہ آ گیا اور اس نے (اسی دن) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ اس نے دو نوکوں والا ایک خنجر بنایا۔ اس کو خوب تیز کیا اور اسے زہر میں ڈال کر رکھ دیا۔ (سیدنا ابورافع) کہتے ہیں: (ایک دن نماز کے لئے) تکبیر کہی گئی، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی یہ عادت تھی کہ جب اقامت ہو جاتی تو نماز شروع کرنے سے پہلے صفیں درست کرنے کو کہا کرتے تھے۔ ابولؤلؤۃ نماز فجر میں آیا اور (صف اول میں) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بالکل قریب کھڑا ہو گیا۔ جب اقامت ہو گئی تو (حسب عادت) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صفیں درست کرنے کی ہدایات دیں، پھر تکبیر کہی۔ تو اس نے آپ پر حملہ کر دیا۔ آپ کے کندھے، آپ کے پہلو اور دیگر مقامات پر خنجر کے پے درپے وار کئے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ گر پڑے، پھر اس نے مزید 13 آدمیوں پر حملہ کیا۔ ان میں سے 7 شدید زخمی ہوئے، جبکہ 6 شہید ہو گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر (آپ کے گھر) لایا گیا، لوگوں میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی حتی کہ سورج بالکل طلوع ہونے کے قریب تھا کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے آواز دی: اے لوگو! نماز پڑھو، نماز پڑھو، تو لوگ جلدی سے نماز کی طرف آ گئے، سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ نے نماز میں سب سے مختصر سورتیں پڑھیں، جب نماز سے فارغ ہوئے تو سب لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آ گئے۔ (سیدنا ابورافع) فرماتے ہیں: آپ کے زخم کی گہرائی کا اندازہ لگانے کے لئے پانی منگوایا گیا، آپ کو نبیذ پیش کیا گیا، آپ نے وہ نبیذ پیا تو وہ نکل گیا۔ لیکن یہ اندازہ نہ ہو سکا کہ یہ نبیذ ہے یا خون، پھر دودھ منگوایا گیا، آپ کو دودھ پیش کیا گیا۔ آپ نے پیا تو زخم کے راستے سے وہ بھی نکل گیا۔ لوگ (تسلی دیتے ہوئے) کہنے لگے: اے امیرالمومنین! آپ کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ آپ نے فرمایا: اگر قتل کوئی نقصان کی چیز ہے تو (جان لو کہ) میں قتل کر دیا گیا ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4562]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4562 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده جيد من أجل جعفر بن سليمان، فهو صدوق لا بأس به، وقد خولف في بعض ألفاظه، فقد رُوي نحو هذه القصة من وجوه، وأبو لؤلؤة كان مجوسيًا لا نصرانيًا. ثابت: هو ابن أسلم البُناني، وأبو رافع: هو الصائغ مولى آل عمر بن الخطّاب.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند جعفر بن سلیمان کی وجہ سے ”جید“ ہے، وہ سچے (صدوق) ہیں اور ان میں کوئی حرج نہیں ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: البتہ بعض الفاظ میں ان کی مخالفت کی گئی ہے، کیونکہ یہ قصہ دیگر کئی طریقوں سے بھی مروی ہے۔ اور (قاتل) ابو لؤلؤہ مجوسی تھا، عیسائی نہیں تھا۔ 📝 نوٹ / توضیح: ثابت سے مراد ابن اسلم البنانی اور ابو رافع سے مراد الصائغ مولی آل عمر بن خطاب ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (6905) من طريق قَطَن بن نُسَير، عن جعفر بن سليمان، به وزاد فيه: أنَّ أبا لؤلؤة لما صنع الخنجر أتى به الهُرمزان وقال له: كيف ترى هذا؟ فقال: إنك لا تضرب بهذا أحدًا إلا قتلتَه.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے ابن حبان نے (رقم: 6905) قطن بن نسیر کے طریق سے، انہوں نے جعفر بن سلیمان سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے: جب ابو لؤلؤہ نے خنجر بنا لیا تو اسے لے کر ہرمزان کے پاس آیا اور اس سے پوچھا: اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا: تم اس سے جس کو بھی مارو گے اسے قتل کر دو گے۔
وفي باب شكوى أبي لؤلؤة المجوسيّ لأمير المؤمنين عمر بن الخطاب عن جماعة:
🧾 تفصیلِ روایت: باب: ابو لؤلؤہ مجوسی کا امیر المومنین عمر بن خطاب سے شکایت کرنا، یہ روایت ایک جماعت سے مروی ہے:
منهم عبد الله بن عمر بن الخطاب عند عمر بن شبة في "تاريخ المدينة" 3/ 893 بسند حسن كما قال الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 11/ 122.
⚖️ درجۂ حدیث: ان میں سے عبد اللہ بن عمر بن خطاب کی روایت عمر بن شبہ کے ہاں ”تاریخ المدینہ“ (3/ 893) میں حسن سند کے ساتھ موجود ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے ”فتح الباری“ (11/ 122) میں فرمایا ہے۔
ومنهم أبو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، عند ابن أبي شيبة 14/ 585 بسند حسن إليهما.
⚖️ درجۂ حدیث: اور ان میں ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف اور یحییٰ بن عبد الرحمن بن حاطب کی روایت ابن ابی شیبہ (14/ 585) کے ہاں موجود ہے، اور سند ان دونوں تک حسن ہے۔
وانظر قصة قتل أبي لؤلؤة لأمير المؤمنين عمر عند البخاري (3700) عن عمرو بن ميمون.
📖 حوالہ / مصدر: اور ابو لؤلؤہ کے امیر المومنین عمر کو شہید کرنے کا قصہ صحیح بخاری (رقم: 3700) میں عمرو بن میمون سے ملاحظہ کریں۔
قوله: وَجَأه؛ أي: طعنه.
📝 نوٹ / توضیح: حدیث کے الفاظ ”وَجَأَه“ کا معنی ہے: اس نے انہیں نیزہ/خنجر مارا (زخمی کیا)۔
وقوله: أفْرَقَ أي: برأ وأفاق.
📝 نوٹ / توضیح: اور الفاظ ”أفْرَقَ“ کا معنی ہے: وہ صحتیاب ہو گئے اور ہوش میں آ گئے۔