🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
65. اشترى عثمان الجنة مرتين .
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو مرتبہ جنت خریدی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4620
حَدَّثَنَا أبو العباس، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا عبد الله بن إدريس، عن الحسن بن فُرات القَزّاز، عن أبيه، عن عُمير بن سعيد، قال: أراد عليّ أن يَسيرَ إلى الشام إلى صِفِّين، اجتمعتِ النَّخَعُ حتَّى دخَلُوا على الأشتَر بيتَه، فقال: هل في البيت إلَّا نَخَعيٌّ؟ قالوا: لا، قال: إِنَّ هذه الأمةَ عَمَدَت إلى خيرِ أهلِها فقتَلُوه - يعني عثمانَ - وإنَّا قاتلْنا أهلَ البصرةِ ببيعةٍ تأوّلْنا عَينَه (1) ، وإنكم تَسِيرون إلى قومٍ ليس لنا عليهم بيعةٌ، فلينظُر امرؤٌ أين يضعُ سيفَه (2) .
هذا حديثٌ وإن لم يكن له سندٌ فإنه مَعقِدٌ، صحيح الإسناد، في هذا المَوضِع. ومن مناقب أمير المؤمنين علي بن أبي طالب ﵁ ممّا لم يُخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4571 - على شرط مسلم
عمیر بن سعید سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے شام میں (جنگ) صفین کی طرف جانے کا ارادہ کیا، تو قبیلہ نخع کے لوگ جمع ہو کر مالک اشتر کے گھر پہنچے، اشتر نے پوچھا: کیا گھر میں کوئی غیر نخعی بھی ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے کہا: اس امت نے اپنے بہترین شخص (عثمان رضی اللہ عنہ) کا قصد کیا اور انہیں قتل کر دیا، اور ہم نے اہل بصرہ سے اس بیعت کی بنا پر جنگ کی جس کی ہم نے اپنی سمجھ کے مطابق تاویل کی تھی، اور اب تم ایسے لوگوں کی طرف جا رہے ہو جن کی بیعت ہماری گردن پر نہیں ہے، لہذا ہر شخص کو دیکھ لینا چاہیے کہ وہ اپنی تلوار کہاں رکھے گا۔
یہ حدیث اگرچہ (بظاہر) بغیر سند کے ہے مگر اس مقام پر اس کی سند صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4620]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4620] [ترقيم الشركة 4597] [ترقيم العلميه 4571]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4620 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) الظاهر أنَّ معناه: تأولنا عين ذلك القتال، فلا تتجاوزوه إلى غيره.
📝 نوٹ / توضیح: (1) ظاہر ہے کہ اس کا معنی ہے: ہم نے اس لڑائی کی حقیقت/ذات کی تاویل کی، لہٰذا اسے کسی اور پر محمول نہ کرو۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4620 in Urdu