المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
148. حديث تسمية الحسن والحسين - رضي الله عنهما - .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی کے دونوں بیٹوں سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب — سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے نام رکھنے سے متعلق حدیث
حدیث نمبر: 4828
حدثنا أبو سهل أحمد بن محمد بن عبد الله بن زياد النَّحْوي ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا بشر بن مهران، حدثنا شريك، عن عبد الملك بن عُمير، قال: دخل يحيى بن يَعْمَر على الحَجَّاج. وحدثنا إسحاق بن محمد بن علي بن خالد الهاشمي بالكوفة، حدثنا أحمد بن موسى بن إسحاق التميمي، حدثنا محمد بن عُبيد النحاس، حدثنا صالح بن موسى الطَّلحي، حدثنا عاصم بن بَهْدَلة، قال: اجْتَمَعُوا عند الحجاج، فذكر الحسين بن عليّ، فقال الحجاج: لم يكن من ذرية النبي ﷺ، وعنده يحيى بن يَعْمَر، فقال له: كذبت أيها الأميرُ، فقال: لتأتيَنِّي على ما قلت ببيِّنةٍ ومصداقٍ من كتاب الله ﷿، أو لأقتُلنَّكَ، قال: ﴿وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَى﴾ إلى قوله ﷿: ﴿وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَى وَعِيسَى﴾ [الأنعام: 84 - 85] ، فأخبر الله ﷿ أنَّ عيسى من ذُرِّية آدمَ بأُمّه، والحسين بن علي من ذرية محمد ﷺ بأُمه، قال: صدقت، فما حَمَلَك على تكذيبي في مجلسي؟ قال: ما أَخَذَ الله على الأنبياء لَيُبيّننَّه للناس ولا يَكتُمونه، قال الله ﷿: ﴿فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [آل عمران: 187] ، قال: فنَفاه إلى خُراسان (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4772 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4772 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عاصم بن بہدلہ بیان کرتے ہیں: حجاج کے ہاں کچھ لوگ جمع تھے، وہاں سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا تذکرہ ہوا، حجاج نے کہا: وہ (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سے نہیں ہیں۔ وہیں پر سیدنا یحیی بن یعمر موجود تھے وہ بولے: اے امیر! تم جھوٹ بول رہے ہو، اس نے کہا: آپ اپنے موقف پر دلیل دیں اور قرآن پاک کا حوالہ پیش کریں ورنہ میں تجھے قتل کروا دوں گا۔ یحیی بن یعمر نے قرآن پاک کی یہ آیات پڑھیں وَمِنْ ذُرِّیَّتِہ دَاوُدَ وَسُلَیْمَانَ وَاَیُّوْبَ وَیُوْسُفَ وَمُوْسٰی۔۔۔۔۔۔ الی قولہ عزوجل۔۔۔۔۔۔ وَزَکَرِیَّا وَیَحْیٰی وَعِیْسٰی وَاِلْیَاسٍ وَزَکَرِیَّا وَیَحْیٰی وَعِیْسٰی وَاِلْیَاس (الانعام: 85، 54) ” اور اس کی اولاد میں سے داود اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو اور زکریا اور یحیی اور عیسیٰ اور الیاس کو “۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ عیسیٰ علیہ السلام ماں کی نسبت سے سیدنا آدم علیہ السلام کی اولاد قرار پائے ہیں، اسی طرح سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما بھی اپنی والدہ کی نسبت سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت قرار پائے ہیں۔ حجاج نے کہا: تم نے سچ بولا (لیکن یہ بتاؤ کہ) بھری مجلس میں آپ نے مجھے کیوں جھٹلایا، یحیی بن یعمر نے کہا: اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام سے یہ عہد لیا تھا کہ وہ حق بات کو چھپائیں گے نہیں بلکہ اس کو لوگوں میں ظاہر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے (وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوتُو الْکِتَابَ لِتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَکْتُمُوْنَہٗ) فَنَبَذُوْہُ وَرَآءَ ظُھُوْرِھِمْ وَاشْتَرَوْا بِہ ثَمَنًا قَلِیْلً ” اور یاد کرو جب اللہ نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا ہوئی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے بیان کر دینا اور نہ چھپانا تو انہوں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے ذلیل دام حاصل کئے “ چنانچہ حجاج نے سیدنا یحیی بن یعمر کو ملک بدر کر کے خراسان بھیج دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4828]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4828 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) خبر محتمل للتحسين، وهذان الإسنادان ضعيفان من أجل بشر، ويقال: بشير بن مهران - وهو الخصاف - وصالح بن موسى الطلحي، فهما ضعيفان، وقد رُوي نحو هذه القصة عن أبي حرب بن أبي الأسود الدؤلي أيضًا، لكن في الإسناد إليه رجلٌ ضعيف كذلك، غير أنَّ هذه الطرق باجتماعها يمكن تحسين الخبر بها، والله أعلم. شريك: هو ابن عبد الله النخعي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر تحسین کا احتمال رکھتی ہے۔ یہ دونوں سندیں ضعیف ہیں، ایک تو بشر (یا بشیر) بن مہران "الخصاف" کی وجہ سے اور دوسری صالح بن موسیٰ الطلحی کی وجہ سے؛ یہ دونوں راوی ضعیف ہیں۔ یہ قصہ ابوحرب بن ابی الاسود الدؤلی سے بھی مروی ہے لیکن اس کی سند میں بھی ایک ضعیف راوی ہے۔ تاہم یہ تمام طرق جب جمع ہو جائیں تو ان کی بنا پر خبر کو "حسن" قرار دیا جا سکتا ہے، واللہ اعلم۔ 🔍 تعیینِ راوی: شریک سے مراد "شریک بن عبداللہ النخعی" ہیں۔
وأخرجه البيهقي 6/ 166، ومن طريقه ابن عساكر 12/ 151 - 152 عن أبي عبد الله الحاكم بإسناديه هذين.
📖 تخریج / حوالہ: اسے بیہقی (6/ 166) نے اور ان کے طریق سے ابن عساکر (12/ 151-152) نے ابوعبداللہ الحاکم سے انہی دونوں سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه البلاذُري في "أنساب الأشراف" 13/ 265، وابن أبي حاتم في "تفسيره" 4/ 1335 من طريق علي بن عابس، عن عبد الله بن عطاء المكي، عن أبي حرب بن أبي الأسود، فذكر القصة. وعلي بن عابس ضعيف يُعتبر به ويكتب حديثه.
📖 تخریج / حوالہ: اسے بلاذری نے "انساب الاشراف" (13/ 265) اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر (4/ 1335) میں علی بن عابس کے طریق سے، انہوں نے عبداللہ بن عطاء المکی سے، انہوں نے ابوحرب بن ابی الاسود سے روایت کیا اور پھر قصہ ذکر کیا۔ 🔍 جرح و تعدیل: علی بن عابس ضعیف ہے (لیکن) اعتبار کے لائق ہے اور اس کی حدیث لکھی جا سکتی ہے۔