🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
148. حديث تسمية الحسن والحسين - رضي الله عنهما - .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی کے دونوں بیٹوں سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب — سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے نام رکھنے سے متعلق حدیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4829
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمرو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن هانئ بن هانئ، عن علي بن أبي طالب، قال: لما ولدت فاطمة الحسن جاء رسول الله ﷺ، فقال:"أرُوني ابني، ما سميتموه؟" قال: قلتُ: سميتُه حَرْبًا، قال:"بل هو حَسَنٌ"، فلما وَلَدَت الحسين جاء رسول الله، فقال:"أَرُوني ما سميتموه؟" قال: قلت: سميتُه حَرْبًا، فقال:"بل هو حُسين"، ثم لما وَلَدَت الثالث جاء رسول الله ﷺ، قال:"أَرُوني ابني، ما سميتموه؟" قلت: سمّيته حَرْبًا، قال:"بل هو محسِّن"، ثم قال:"إنما سميتهم باسم ولد هارون: شَبَّرٍ وشَبِيرٍ ومُشَبِّرٍ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4773 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حسن کی ولادت ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: میرا بیٹا مجھے دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے بتایا کہ میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ یہ حسن ہے۔ پھر جب ان کے ہاں حسین کی ولادت ہوئی تو اس موقع پر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: میرا بیٹا مجھے دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ یہ حسین ہے۔ پھر جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تیسرا بیٹا پیدا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: میرا بیٹا مجھے دکھاؤ، تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: اس کا نام حرب رکھا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ یہ محسن ہے۔ پھر فرمایا: تم نے سیدنا ہارون علیہ السلام کے بیٹوں کے ناموں کی طرح نام رکھے ہیں (ان کے تین بیٹوں کے یہ نام تھے) شبر، شبیر اور مشبر۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4829]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4829 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث منكر، هانئ بن هانئ تفرَّد بالرواية عنه أبو إسحاق السبيعي، وقال الشافعي وابن المديني: مجهول، وقال ابن سعد: منكر الحديث، ومع ذلك قال النسائي: ليس به بأس، قلنا: وهذا عند عدم المخالفة، وأما في هذا الحديث فقد خالف حديث عبد الله بن محمد بن عقيل عن أبيه عن عليّ الآتي عند المصنف برقم (7927): أنه سمّى الحسن بحمزة، والحسين بجعفر، فغيرهما النبي ﷺ، وهذا أقرب إلى القبول لأنه من رواية أهل بيته، وهم أعلم بحديثهم، والله تعالى أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "منکر" ہے۔ 🔍 علّت: راوی ہانی بن ہانی سے روایت کرنے میں ابواسحاق السبیعی متفرد ہیں (یعنی اکیلے راوی ہیں)۔ امام شافعی اور ابن المدینی نے ہانی کو "مجہول" کہا ہے، اور ابن سعد نے "منکر الحدیث" کہا ہے۔ اس کے باوجود امام نسائی نے فرمایا: "لیس بہ بأس" (کوئی حرج نہیں)۔ ہم کہتے ہیں کہ نسائی کا یہ قول تب معتبر ہے جب وہ کسی کی مخالفت نہ کرے۔ لیکن اس حدیث میں اس نے عبداللہ بن محمد بن عقیل کی حدیث کی مخالفت کی ہے جو وہ اپنے والد سے اور وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں (اور جو مصنف کے ہاں آگے نمبر 7927 پر آئے گی)۔ اس میں یہ ہے کہ علیؓ نے حسن کا نام حمزہ اور حسین کا نام جعفر رکھا تھا تو نبی ﷺ نے انہیں تبدیل کیا۔ 📌 اہم نکتہ: یہ دوسری روایت قبولیت کے زیادہ قریب ہے کیونکہ یہ ان کے گھر والوں (اہل بیت) کی روایت ہے، اور وہ اپنی احادیث کو زیادہ بہتر جانتے ہیں، واللہ تعالیٰ اعلم۔
وأخرجه ابن حبان (6958) من طريق أبي بكر بن أبي شيبة، عن عبيد الله بن موسى، بهذا الإسناد.
📖 تخریج / حوالہ: اسے ابن حبان (6958) نے ابوبکر بن ابی شیبہ کے طریق سے، انہوں نے عبیداللہ بن موسیٰ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 2/ (769) و (953) من طريقين عن إسرائيل، به.
📖 تخریج / حوالہ: اسے امام احمد نے (2/ 769 اور 953) میں اسرائیل کے واسطے سے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (4890) من طريق عبد العزيز بن أبان عن إسرائيل، وبرقم (4839) من طريق يونس بن أبي إسحاق السبيعي عن أبيه.
📖 حوالہ: یہ روایت آگے نمبر (4890) پر عبدالعزیز بن ابان عن اسرائیل کے طریق سے، اور نمبر (4839) پر یونس بن ابی اسحاق السبیعی عن ابیہ کے طریق سے آئے گی۔