المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
148. حديث تسمية الحسن والحسين - رضي الله عنهما - .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی کے دونوں بیٹوں سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب — سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے نام رکھنے سے متعلق حدیث
حدیث نمبر: 4831
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو جعفر محمد بن عبيد الله بن المُنادِي، حدثنا وهب بن جرير بن حازم، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن عبد الله بن أبي يعقوب، عن عبد الله بن شداد بن الهادِ، عن أبيه، قال: خرج علينا رسول الله ﷺ وهو حاملٌ أحد ابنيه، الحَسَنَ أو الحُسينَ، فتقدَّم رسول الله ﷺ فَوَضَعَه عند قدمه اليُمنى، فسجد رسول الله ﷺ سجدةً أطالها، قال أبي: فرفعتُ رأسي من بين الناس، فإذا رسول الله ﷺ ساجدٌ، وإذا الغُلامُ راكبٌ على ظهره، فعُدْتُ فسجدتُ، فلما انصرف رسول الله ﷺ قال الناسُ: يا رسول الله، لقد سجدت في صلاتك هذه سجدةً ما كنتَ تَسجُدُها، أفَشَيءٌ أُمرتَ به، أو كان يُوحَى إليك؟ قال:"كلُّ ذلك لم يكن، إن ابني ارتَحَلَني، فكرهتُ أن أُعجِلَه حتى يَقضي حاجته" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4775 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4775 - على شرط البخاري ومسلم
عبداللہ بن شداد بن الہاد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر یا عصر کی نماز کے لئے تشریف لائے تو حسن یا حسین دونوں میں سے کسی ایک کو اٹھائے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز پڑھانے کے لئے مصلائے امامت پر) تشریف فرما ہوئے تو ان کو اپنے دائیں پہلو کی جانب بٹھا دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں گئے تو سجدہ بہت طویل کیا۔ میرے والد صاحب کہتے ہیں: میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں تھے اور آپ کا نواسا آپ کی پشت مبارک پر بیٹھا ہوا تھا، میں دوبارہ سجدے میں چلا گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے اس نماز میں اتنا طویل سجدہ کیا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا لمبا سجدہ نہیں کیا۔ کیا آپ کو اس نماز میں کوئی خاص حکم ملا تھا یا آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں باتوں میں سے کوئی بھی پیش نہیں آئی، بلکہ میرا بیٹا مجھ پر سوار ہو گیا تھا مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اس کو اس کی مرضی کے بغیر نیچے اتاروں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4831]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4831 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (6776) من طريق يزيد بن هارون عن جرير بن حازم.
📖 حوالہ: یہ روایت آگے مصنف کے ہاں نمبر (6776) پر یزید بن ہارون کے واسطے سے آئے گی جو جریر بن حازم سے روایت کرتے ہیں۔