🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
201. آنية حوض الكوثر أكثر من عدد النجوم
حوضِ کوثر کے برتن ستاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4950
حدّثَناه عبد الله بن إسحاق ابن الخُراساني العَدْل ببغداد، حدثنا محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا يوسف بن سَلْمان المازني، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن عمرو بن دينار، سمع رجلًا بالمدينة يقول: جاء جَدّي بأبي إلى رسولِ الله ﷺ، فقال: هذا ولدي، فما أُسمِّيه؟ قال:"سَمِّه بأحبِّ الناسِ إليَّ حمزةَ بن عبد المُطَّلب" (1) . قد قَصّر هذا الراوي المَجهُول برواية الحديث عن ابن عُيينة، والقولُ فيه قول يعقوبَ بن حُميد، وقد كان أبو أحمد الحافظ يُناظِرُني أنَّ البخاريَّ قد روى عنه في"الجامع الصحيح"، وكنت آبَى عليه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4889 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے مدینہ میں ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میرے دادا جان، میرے والد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت لے کر آئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ میرا بیٹا ہے، میں اس کا نام کیا رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نام رکھو جو مجھے تمام لوگوں سے زیادہ عزیز ہے (اور وہ ہے) سیدنا عبدالمطلب کے صاحبزادے کا نام حمزہ رضی اللہ عنہ۔ ٭٭ اس حدیث کی سند میں جو مجہول راوی ہیں ان کی حدیث کو ابن عیینہ کی سند کے حوالے سے نہیں لیا جاتا۔ اور اس سلسلے میں معتبر بات یعقوب بن حمید کی ہے۔ ابواحمد الحافظ مجھ سے اس بات کی بہت بحث کیا کرتا تھا کہ امام بخاری نے الجامع الصحیح (بخاری شریف) میں ان سے روایت نقل کی ہے جبکہ میں اس بات کا انکار کیا کرتا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4950]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4950 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله لا بأس بهم، لكنه مرسلٌ، وأخطأ المصنِّف إذ جهَّل يوسفَ بن سلْمان المازني، فهو
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کے رجال "لا بأس بہم" (قابلِ قبول) ہیں، لیکن یہ روایت "مرسل" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / جرح و تعدیل: مصنف (حاکم) سے غلطی ہوئی ہے کہ انہوں نے یوسف بن سلمان المازنی کو "مجہول" قرار دیا، حالانکہ وہ...
جيّد الحديث، روى عنه جمع من كبار الحفاظ، وقال عنه النسائي: لا بأس به، ووثّقه مسلمة بن قاسم، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقد وصله بعضهم، ولكن ذلك لا يصح كما سبق بيانه في
🔍 فنی نکتہ (جاری): ... "جید الحدیث" (عمدہ حدیث والے) ہیں، ان سے کبار حفاظ کی ایک جماعت نے روایت کی ہے، امام نسائی نے ان کے بارے میں "لا بأس بہ" فرمایا، مسلمہ بن قاسم نے ان کی توثیق کی، اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا۔ اگرچہ بعض نے اس روایت کو "وصل" (متصل) بھی کیا ہے لیکن وہ صحیح نہیں ہے جیسا کہ بیان گزر چکا...
الذي قبله.
📝 نوٹ / توضیح: ... پچھلی حدیث کے تحت۔
(2) كان المصنِّف يرى أنَّ يعقوب الذي روى عنه البخاري وأهمله في موضعين فلم يقيّده هو يعقوب بن محمد الزهري كما تقدَّم بإثر الحديث (3143). وأبو أحمد الحافظ: هو المعروف بالحاكم الكبير، صاحب كتاب "الكنى والأسماء"، وانظر ترجمته في "سير أعلام النبلاء" 16/ 370.
🔍 فنی نکتہ / اسماء الرجال: (2) مصنف کی رائے یہ تھی کہ وہ "یعقوب" جن سے بخاری نے روایت کی اور دو جگہوں پر ان کا نسب بیان نہیں کیا (مہمل چھوڑا)، وہ "یعقوب بن محمد الزہری" ہیں، جیسا کہ حدیث (3143) کے بعد گزر چکا۔ اور (سند میں مذکور) ابو احمد الحافظ سے مراد وہ شخصیت ہے جو "الحاکم الکبیر" کے نام سے معروف ہے، جو کتاب "الکنیٰ والاسماء" کے مصنف ہیں۔ ان کے حالات "سیر اعلام النبلاء": 16/ 370 میں دیکھیں۔