🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
279. إنشاد ضرار بن الأزور عند النبى ودعاؤه له
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کا اشعار پڑھنا اور آپ کی ان کے لیے دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5115
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبَهاني، حدثنا محمد بن الحَسَن (3) بن علي بن البَرِّي، حدثنا أبي، حدثنا ابن المبارك، حدثنا الأعمش، عن يعقوب بن بَحِير، عن ضرار بن الأزْوَر قال: أتيتُ النبيّ ﷺ بلَقُوحٍ من أهلي، فقال لي:"احلُبْها" فذهبتُ لأُجْهدَها، فقال:"لا تُجهِدْها، دَعْ داعيَ اللَّبَنِ" (1) . صحيح الإسناد، ولا نحفظ لضرارٍ عن رسول الله ﷺ غيرَ هذا. فأما فضيلتُه، فدعا رسولُ الله ﷺ له لما أنشدَه قصيدتَه التي:
سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اپنے گھر والوں کی طرف سے کچھ اونٹنیاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان کو دوہنے کا حکم دیا، میں ان کو دوہنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دودھ بالکل ختم نہیں کرنا بلکہ تھنوں میں کچھ دودھ چھوڑ دینا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، سیدنا ضرار کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کے علاوہ کوئی اور روایت نہیں ہے۔ بہرحال ان کے فضائل میں وہ دعا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے اس وقت مانگی تھی جب انہوں نے قصیدہ پڑھا۔ (ان کے قصیدہ اور دعائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مشتمل حدیث درج ذیل ہے۔) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5115]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5115 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) كذا وقع عند المصنف في هذا الموضع روايتُه عن أبي عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني - وهو الصفّار - عن محمد بن الحسن علي بن البَرِّي - وهو ابن بحر البَرِّي - عن أبيه، والمحفوظ في سائر رواياته عن أبي عبد الله الصفّار عن الحسن بن علي بن بحر - والد محمد - عن أبيه علي بن بحر، وهذا هو الصواب، فإن الحسن بن علي لم يدرك ابنَ المبارك قطعًا، إذ توفي ابن المبارك سنة إحدى وثمانين ومئة، وتوفي الحسن سنة ثمانين ومئتين كما أرّخه الذهبي في "تاريخ الإسلام"، ونقل مغلطاي عن مسلمة بن قاسم أنه أرّخ وفاته سنة ثمان وسبعين ومئتين، إذًا فبين وفاتيهما سبعةٌ وتسعون عامًا على أقل تقدير، وإلّا فتسعة وتسعون عامًا، وأما علي بن بحر فلا شك بإدراكه لابن المبارك.
🔍 فنی نکتہ / نقدِ سند: مصنف (حاکم) کے پاس اس مقام پر روایت اس طرح آئی ہے: ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الزاہد الاصبہانی (الصفار) سے، وہ محمد بن الحسن علی بن البری (ابن بحر البری) سے، وہ اپنے والد سے۔ لیکن ان کی باقی روایات میں "محفوظ" یہ ہے کہ ابو عبد اللہ الصفار روایت کرتے ہیں "الحسن بن علی بن بحر" (جو محمد کے والد ہیں) سے، اور وہ اپنے والد "علی بن بحر" سے۔ اور یہی درست (صواب) ہے، کیونکہ حسن بن علی نے عبد اللہ بن مبارک کا زمانہ قطعاً نہیں پایا۔ ابن مبارک کی وفات 181ھ میں ہوئی اور حسن کی وفات 280ھ میں ہوئی (جیسا کہ ذہبی نے "تاریخ الاسلام" میں لکھا) یا مغلطائی کی نقل کے مطابق 278ھ میں؛ لہٰذا ان دونوں کی وفات کے درمیان کم از کم 97 سال یا 99 سال کا فرق ہے۔ البتہ علی بن بحر کے ابن مبارک کو پانے میں کوئی شک نہیں ہے۔
(1) مرفوعه حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات غير يعقوب بن بَحير، فلا يُعرف، وقد اختُلف في تعيين التابعي على الأعمش كما تقدَّم بيانه برقم (2397).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کا مرفوع حصہ "حسن لغیرہ" ہے، اور اس سند کے رجال ثقہ ہیں سوائے یعقوب بن بحیر کے، وہ غیر معروف (مجہول) ہیں۔ نیز اعمش سے روایت کرنے والے تابعی کی تعیین میں اختلاف ہے جیسا کہ پہلے نمبر (2397) پر بیان ہو چکا ہے۔