المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
325. كان شعار بني الأسد يا مبرور
بنو اسد کا شعار یہ تھا: یا مبرور
حدیث نمبر: 5212
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، قال: أسلم الطُّفيل بن عمرو وتَبِعَ رسول الله ﷺ بمكةَ، ثم رجع إلى قومِه من أرض دَوسٍ، فلم يزل مُقيمًا بها حتى هاجر إلى المدينة بعد بدر وأُحد والخندق، حين قَدِمَ بمن أسلَم معه من قومِه ورسولُ الله ﷺ بخَيبرَ، ثم لَحِق برسولِ الله ﷺ بخيبرَ، فأسهَمَ لهم مع المسلمين (1) .
محمد بن عمر فرماتے ہیں: طفیل بن عمرو مسلمان ہوئے اور مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی، پھر سرزمین دوس میں اپنے قبیلے میں واپس آ گئے۔ پھر بہت عرصہ یہیں پر رہے حتی کہ جنگ بدر، احد اور خندق کے بعد غزوہ خیبر کے موقع پر جب ان کے قبیلے کے دوسرے لوگ مسلمان ہو کر آئے، اس وقت یہ بھی ان کے ہمراہ مدینہ کی جانب آ گئے، پھر خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر مسلمانوں کے ہمراہ ان کو بھی حصہ عطا فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5212]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5212 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وهو في "الطبقات الكبرى" لابن سعد 4/ 223 عن محمد بن عمر الواقدي، لكن أسنده عن عبد الله بن جعفر المَخْرَمي عن عبد الواحد بن أبي عون الدوسي عن الطفيل بن عمرو، فذكر قصة إسلامه مطولة، ورجوعه إلى أرض دوس، ثم مجيئه بعد خيبر مباشرة. ورجاله من فوق الواقدي ثقات، لكنه مُنقطع فإنَّ عبد الواحد لم يدرك الطفيل بن عمرو، لكن رَوى مثلَ هذه القصة محمدُ بنُ إسحاق عن الطفيل بن عمرو كما في "سيرة ابن هشام" 1/ 382 - 385، ولم يذكر ابن إسحاق إسناده إلى الطفيل.
📖 حوالہ / مصدر: (1) یہ ابن سعد کی "الطبقات الکبریٰ" [4/ 223] میں محمد بن عمر الواقدی سے مروی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن انہوں نے اسے عبداللہ بن جعفر المخرمی عن عبدالواحد بن ابی عون الدوسی عن الطفیل بن عمرو کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ اس میں ان کے اسلام کا قصہ، دوس کی طرف واپسی، اور پھر خیبر کے فوراً بعد آمد کا ذکر تفصیل سے ہے۔ واقدی سے اوپر کے راوی ثقہ ہیں، لیکن یہ "منقطع" ہے کیونکہ عبدالواحد نے طفیل بن عمرو کو نہیں پایا۔ البتہ محمد بن اسحاق نے طفیل بن عمرو سے اسی جیسا قصہ روایت کیا ہے [دیکھیں: سیرت ابن ہشام 1/ 382-385]، لیکن ابن اسحاق نے طفیل تک اپنی سند ذکر نہیں کی۔