المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
371. المؤذنون أطول الناس أعناقا يوم القيامة
قیامت کے دن مؤذنوں کی گردنیں سب سے زیادہ لمبی ہوں گی
حدیث نمبر: 5328
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم، حدثنا محمد بن موسى الباشاني، حدثنا علي بن الحسن بن شَقيق، أخبرنا الحسين بن واقِد، حدثنا عبد الله بن بُريدة، عن أبيه، قال: أصبحَ رسولُ الله ﷺ يومًا فدعا بلالًا، فقال:"يا بلالُ، بمَ سَبقْتَني إلى الجنةِ، إني دخلت البارحةَ الجنةَ فسمعتُ خَشْخَشتَكَ أمامي، فأتيتُ على قَصْرٍ من ذهبِ مُربَّعٍ مُشرِف، فقلت: لمن هذا القصرُ؟ فقالوا: لرجلٍ من أمّة محمدٍ، قلت: أنا محمد، لمن هذا القصرُ؟ قالوا: لرجلٍ من العرب، فقلتُ: إني عَربيّ، لمن هذا القصرُ؟ قالوا: لرجل من قُريش، فقلت: أنا قُرشيٌّ، لمن هذا القصرُ؟ قالوا: لعُمرَ بن الخَطّاب"، فقال بلالٌ: يا رسول الله، ما أذَّنْتُ قَطُّ إِلَّا صلَّيتُ ركعتَين، وما أصابني حَدَثٌ قطُّ إِلَّا توضأتُ عندها، فقال رسول الله ﷺ:"بِهَذا" (1) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5245 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5245 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں کہ) ایک دن صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا: اے بلال رضی اللہ عنہ گزشتہ رات تم کس عمل کی بنیاد پر جنت میں مجھ سے بھی آگے تھے؟میں نے تیرے قدموں کی آہٹ اپنے آگے سنی ہے۔ پھر میں سونے کے بنے ہوئے ایک چوکور بلند محل کے پاس گیا، میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ (فرشتوں نے) کہا: ایک قریشی آدمی کا ہے۔ میں نے کہا: میں بھی قریشی ہوں، تو یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا۔ تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جب بھی اذان دیتا ہوں تو دو رکعت نوافل پڑھتا ہوں، اور جب بھی میرا وضو ٹوٹتا ہے تو میں فوراً وضو کر لیتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی وجہ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5328]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5328 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث قوي، وهذا إسناد حسنٌ من أجل محمد بن موسى الباشاني - وهو ابن حاتم - وقد توبع، والحسين بن واقد وهو المروزي - صدوق لا بأس به.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث "قوی" ہے، اور یہ سند "حسن" ہے جس کی وجہ "محمد بن موسیٰ الباشانی" (ابن حاتم) ہیں، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور حسین بن واقد (المروزی) "صدوق" (سچے) ہیں اور ان میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہ)۔
وأخرجه أحمد 38/ (23040) عن علي بن الحَسَن بن شَقيق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (38/ 23040) نے علی بن الحسن بن شقیق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (22996)، وابن حبان (7086) من طريق زيد بن الحُباب، والترمذي (3689) من طريق علي بن الحُسين بن واقد، كلاهما عن الحُسين بن واقد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (22996) اور ابن حبان (7086) نے زید بن الحباب کے طریق سے، اور ترمذی (3689) نے علی بن الحسین بن واقد کے طریق سے تخریج کیا ہے۔ یہ دونوں (زید اور علی) حسین بن واقد سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وقد تقدَّم برقم (1193) من طريق عبد الله بن علي الغزّال عن علي بن الحَسن بن شقيق، مختصرًا بقصة بلال بن رباح.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت پہلے نمبر (1193) پر عبد اللہ بن علی الغزّال کے طریق سے گزر چکی ہے جو علی بن الحسن بن شقیق سے روایت کرتے ہیں، وہاں یہ بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کے قصے پر مختصراً مذکور ہے۔