🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

371. الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قیامت کے دن مؤذنوں کی گردنیں سب سے زیادہ لمبی ہوں گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5326
حدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا أبو حذُيفة، حدثنا عُمَارة بن زاذان، عن ثابت، عن أنس، قال: قال رسول الله ﷺ:"السُّباقُ أربعةٌ: أنا سابِقُ العربِ، وسلمانُ سابِقُ فارسَ، وبلالٌ سابِقُ الحَبشةِ، وصهيبٌ سابِقُ الرُّومِ" (1) . تفرَّد به عُمَارةُ بن زاذان عن ثابت.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5243 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سبقت لے جانے والے چار لوگ ہیں: عربوں میں سے میں سبقت لے جانے والا ہوں، فارسیوں میں سے سلمان سبقت لے جانے والا ہے، حبشیوں میں سے بلال سبقت لے جانے والا ہے اور رومیوں میں سے صہیب سبقت لے جانے والا ہے۔ (یعنی ان تینوں حضرات نے اپنی قوم میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا)۔ ٭٭ عمارہ بن زاذان یہ حدیث ثابت سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5326]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5327
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الشافعي، حدثنا محمد بن مَسلَمة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حُسام بن مِصَكٍّ، عن قَتَادة، عن القاسم بن رَبيعة، عن زيد بن أرقَمَ، قال: قال رسول الله ﷺ:"نِعمَ المَرْءُ بلالٌ، هو سيِّد المؤذِّنِين، ولا يَتبَعُه إلَّا مُؤذّنٌ، والمؤذِّنون أطولُ الناس أعناقًا يومَ القيامة" (2) تفرَّد به حُسَام.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5244 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلال کتنا اچھا انسان ہے، وہ تمام مؤذنوں کا سردار ہے، اور ان کی پیروی کرنے والے صرف مؤذن ہوں گے، اور قیامت کے دن سب سے بلند قامت مؤذن ہی ہوں گے۔ ٭٭ یہ حدیث قتادہ سے روایت کرنے میں حسام بن مصک منفرد ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5327]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5328
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم، حدثنا محمد بن موسى الباشاني، حدثنا علي بن الحسن بن شَقيق، أخبرنا الحسين بن واقِد، حدثنا عبد الله بن بُريدة، عن أبيه، قال: أصبحَ رسولُ الله ﷺ يومًا فدعا بلالًا، فقال:"يا بلالُ، بمَ سَبقْتَني إلى الجنةِ، إني دخلت البارحةَ الجنةَ فسمعتُ خَشْخَشتَكَ أمامي، فأتيتُ على قَصْرٍ من ذهبِ مُربَّعٍ مُشرِف، فقلت: لمن هذا القصرُ؟ فقالوا: لرجلٍ من أمّة محمدٍ، قلت: أنا محمد، لمن هذا القصرُ؟ قالوا: لرجلٍ من العرب، فقلتُ: إني عَربيّ، لمن هذا القصرُ؟ قالوا: لرجل من قُريش، فقلت: أنا قُرشيٌّ، لمن هذا القصرُ؟ قالوا: لعُمرَ بن الخَطّاب"، فقال بلالٌ: يا رسول الله، ما أذَّنْتُ قَطُّ إِلَّا صلَّيتُ ركعتَين، وما أصابني حَدَثٌ قطُّ إِلَّا توضأتُ عندها، فقال رسول الله ﷺ:"بِهَذا" (1) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5245 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں کہ) ایک دن صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا: اے بلال رضی اللہ عنہ گزشتہ رات تم کس عمل کی بنیاد پر جنت میں مجھ سے بھی آگے تھے؟میں نے تیرے قدموں کی آہٹ اپنے آگے سنی ہے۔ پھر میں سونے کے بنے ہوئے ایک چوکور بلند محل کے پاس گیا، میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ (فرشتوں نے) کہا: ایک قریشی آدمی کا ہے۔ میں نے کہا: میں بھی قریشی ہوں، تو یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا۔ تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جب بھی اذان دیتا ہوں تو دو رکعت نوافل پڑھتا ہوں، اور جب بھی میرا وضو ٹوٹتا ہے تو میں فوراً وضو کر لیتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی وجہ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5328]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں