المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
672. ذكر مناقب الطفيل بن عبد الله بن سخبرة - رضى الله عنه -
سیدنا طفیل بن عبد الله بن سخبرہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 6057
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الإمام، أخبرنا العبّاس بن الفضل الأسفاطي، حَدَّثَنَا إسماعيل بن أبي أويس، حدثني أخي، عن سليمان بن بلال، عن أسامة بن زيد، عن ابن شِهاب، عن إبراهيم بن عبد الله بن حُنين: أَنَّ عبدَ الله بن عبّاس والمِسْوَر بن مَخْرَمة اختلفا في المُحرِم يَغسِلُ رأسَه بالماءِ من غير جَنَابةٍ، فأرسَلاني إلى أبي أيوب الأنصاريِّ وهو في بعض مياه مكةَ أسألُه عن ذلك، فذَكَرَ الحديثَ بطوله (1) . هذه فضيلةٌ لأبي أيوب، أنَّ ابنَ عبّاس والمِسْوَرَ يَرجِعان إليه في السؤال، وأظنُّ أنَّ الشيخين ﵄ قد خرَّجاه أو أحدُهما في كتاب الطهارة. ذكرُ مناقب عبد الله بن الطُّفيل بن سَخْبَرة ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5943 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5943 - صحيح
ابراہیم بن عبداللہ بن حنین فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا آپس میں اس بات پر اختلاف ہو گیا کہ محرم اگر جنبی نہ ہو تو وہ اپنا سر پانی کے ساتھ دھو سکتا ہے یا نہیں؟ ان دونوں نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی جانب ایک آدمی بھیجا تاکہ وہ آپ سے اس مسٔلہ کا جواب پوچھ کر آئے، ان دنوں سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ مکہ کے کسی کنویں پر موجود تھے۔ اس کے بعد پوری حدیث بیان کی۔ (امام حاکم کہتے ہیں) اس حدیث میں سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی فضیلت نظر آتی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے سوال کے معاملہ میں ان سے رجوع کیا۔ اور میرا خیال ہے کہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما دونوں نے یا ان میں سے کسی ایک نے یہ حدیث کتاب الطہارت میں ذکر کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6057]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6057 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد فيه، وهم، فالمحفوظ فيه أنه من رواية إبراهيم بن عبد الله بن حنين عن أبيه، كما في رواية مالك عن زيد بن أسلم عن إبراهيم بن عبد الله بن حنين، في "الصحيحين" وغيرهما، ويغلب على الظن أنَّ منشأ الوهم هو أسامة بن زيد الليثي أو إسماعيل بن أبي أُويس، فكل منهما عنده أوهام وعليه كلام أوهام وعليه كلام من جهة حفظه، أما العبّاس بن الفضل الأسفاطي، وإن كان فيه كلام فقد توبع. أخو إسماعيل بن أبي أويس: هو عبد الحميد، وابن شِهاب: هو محمد بن مسلم الزهري.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ ایک "صحیح حدیث" ہے، تاہم اس مخصوص سند میں "وہم" پایا جاتا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محفوظ بات یہ ہے کہ یہ ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین کی اپنے والد (عبد اللہ بن حنین) سے روایت ہے، جیسا کہ امام مالک عن زید بن اسلم عن ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین کی روایت "صحیحین" (بخاری و مسلم) وغیرہ میں موجود ہے۔ غالب گمان یہ ہے کہ اس وہم کا سبب اسامہ بن زید اللیثی یا اسماعیل بن ابی اویس ہیں، کیونکہ ان دونوں کے حافظے کے حوالے سے علمی کلام موجود ہے اور ان سے اوہام صادر ہوئے ہیں۔ جہاں تک عباس بن الفضل الاسفاطی کا تعلق ہے، تو اگرچہ ان پر کلام ہے مگر یہاں ان کی متابعت موجود ہے۔ 📌 اہم نکتہ: اسماعیل بن ابی اویس کے بھائی کا نام عبد الحمید ہے، اور ابن شہاب سے مراد مشہور محدث محمد بن مسلم الزہری ہیں۔
وأخرجه الطبراني (3978) عن العبّاس بن الفضل الأسفاطي، بهذا الإسناد. ولم يذكر فيه عن أبيه، بل قال في آخره: قال إبراهيم: فرجعت إليهم فأخبرتهم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے (3978) میں عباس بن الفضل الاسفاطی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، مگر انہوں نے اس میں "عن ابیہ" (اپنے والد سے) کا ذکر نہیں کیا، بلکہ آخر میں یہ الفاظ کہے: "ابراہیم نے کہا: میں ان کے پاس واپس گیا اور انہیں خبر دی"۔
ومثله أخرجه يعقوب بن سفيان في "المعرفة والتاريخ" 1/ 215 عن إسماعيل بن أبي أُويس، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح کی روایت یعقوب بن سفیان نے "المعرفۃ والتاریخ" (1/ 215) میں اسماعیل بن ابی اویس کے واسطے سے نقل کی ہے۔
ورواه زيد بن أسلم عن إبراهيم بن عبد الله بن حنين عن أبيه، فجعل عبد الله بن حنين هو صاحب القصة، فقد أخرجه مطولًا ومختصرًا من هذا الطريق أحمد 38/ (23529) و (23548) و (23578)، والبخاري (1840)، ومسلم (1205)، وأبو داود (1840)، وابن ماجه (2934)، والنسائي (3631)، وابن حبان (3948).
🧾 تفصیلِ روایت: زید بن اسلم نے اسے ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین کے واسطے سے ان کے والد سے روایت کیا ہے، اور اس میں عبد اللہ بن حنین ہی کو واقعے کا مرکزی کردار قرار دیا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اس طریق سے امام احمد نے "مسند" (38/ 23529، 23548، 23578) میں، امام بخاری (1840)، مسلم (1205)، ابو داؤد (1840)، ابن ماجہ (2934)، نسائی (3631) اور ابن حبان (3948) نے اسے مفصل اور مختصر طور پر روایت کیا ہے۔