🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
743. مدح ابن سعد لأبيه سعد
سیدنا سعد کے بیٹے کا اپنے والد سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی تعریف کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6238
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الوهاب العَبْدي، حَدَّثَنَا جعفر بن عَوْن، حَدَّثَنَا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم قال: سمعتُ سعدًا يقول: قال لي رسول الله ﷺ:"اللهمَّ استَجِبْ له إذا دعاكَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6118 - صحيح
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے یوں دعا مانگی اے اللہ! یہ جب بھی تیری دعا مانگے، تو اس کی دعا کو قبول فرما۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6238]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6238 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) رجاله في الجملة ثقات إلّا أنه اختلف في وصله وإرساله.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے راوی مجموعی طور پر ثقہ ہیں، مگر اس کے 'موصول' (سند ملی ہوئی) یا 'مرسل' (سند ٹوٹی ہوئی) ہونے میں اختلاف ہے۔
فوصله جعفر بن عون كما في روايته عند المصنّف هنا وعند الترمذي (3751)، وابن حبان (6990).
📖 حوالہ / مصدر: جعفر بن عون نے اسے 'موصول' روایت کیا ہے جیسا کہ مصنف، امام ترمذی (3751) اور ابن حبان (6990) کے ہاں ہے۔
وتابعه موسى بن عقبة عن إسماعيل بن أبي خالد كما سيأتي عند المصنّف برقم (6242)، لكن في الطريق إليه ضعفٌ. وخالفهما يزيد بن هارون عند ابن سعد في "الطبقات" 3/ 132، ويحيى القطان عند أحمد في "فضائل الصحابة" (1308)، فروياه عن إسماعيل عن قيس قال: أُخبرت أنَّ رسول الله ﷺ قال لسعد … وهذا مرسل، إلّا أنَّ قيسًا لا يكاد يروي إلّا عن صحابي، فإنه تابعيّ كبير مخضرم.
⚖️ درجۂ حدیث: یزید بن ہارون اور یحییٰ القطان نے اسے 'مرسل' روایت کیا ہے کہ قیس نے کہا: "مجھے خبر دی گئی کہ رسول اللہ ﷺ نے سعد سے فرمایا..."۔ 📌 اہم نکتہ: چونکہ قیس بن ابی حازم 'تابعی کبیر مخضرم' ہیں، اس لیے وہ عموماً صحابہ سے ہی روایت کرتے ہیں (جس سے ارسال کی شدت کم ہو جاتی ہے)۔
وأخرج الطبراني (318) من طريق مجالد بن سعيد، عن عامر بن سعد، عن أبيه: أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال له يوم بدر: "اللهم استجب لسعد" وإسناده ضعيف لضعف مجالد.
📖 حوالہ / مصدر: طبرانی (318) نے مجالد بن سعید کے طریق سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے بدر کے دن فرمایا: "اے اللہ! سعد کی دعا قبول فرما"۔ ⚖️ درجۂ حدیث: مجالد کے ضعف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔
وقد سلف برقم (4360) ضمن حديث من طريق عائشة بنت سعد عن أبيها دعاء النَّبِيّ ﷺ له بإجابة الدعوة، وإسناده هناك ضعيف جدًّا.
⚖️ درجۂ حدیث: اس روایت کی سند یہاں نہایت ضعیف ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: حضرت عائشہ بنت سعد کے طریق سے اپنے والد (حضرت سعد) کے لیے نبی ﷺ کی مستجاب الدعوات ہونے کی دعا کا ذکر پہلے رقم (4360) پر گزر چکا ہے۔
وذكر الدارقطني في "العلل" (640) عدة رواة رووه عن إسماعيل عن قيس مرسلًا، قال: وهو المحفوظ.
📖 حوالہ / مصدر: امام دارقطنی نے "العلل" (640) میں ذکر کیا ہے کہ کئی راویوں نے اسے اسماعیل عن قیس کے طریق سے 'مرسل' روایت کیا ہے، اور فرمایا کہ یہی (مرسل ہونا ہی) 'محفوظ' ہے۔