🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1020. تعظيم عمر لعائشة - رضي الله عنها -
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ادب و احترام کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6873
أخبرَناه أبو العبّاس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْوٍ، حَدَّثَنَا سعيد (1) ابن مسعود حَدَّثَنَا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن مصعب بن سعد، عن سعد قال: كان عطاءُ أهلِ بدر ستةَ آلاف ستةَ آلاف، وكان عطاءُ أمهات المؤمنين عشرةَ آلاف عشرةَ آلاف لكلِّ امرأةٍ منهن، غيرَ ثلاثِ نسوةٍ: عائشةَ، فإنَّ عمر قال: أُفضِّلُها بألفينِ لحبِّ رسول الله ﷺ إياها، وصفيةَ وجُوَيريةَ سبعةَ آلاف سبعةَ آلاف (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه لإرسال مُطَرِّف بن طريف إياه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6724 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا سعد فرماتے ہیں: بدری صحابہ کو چھ چھ ہزار حصص ملتے تھے اور امہات المومنین میں سے ہر ایک کو دس دس ہزار۔ سوائے تین ازواج کے۔ (1) ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے بارے میں فرمایا کرتے تھے، میں ان کو دو ہزار زائد پیش کرتا ہوں کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لاڈلی زوجہ ہیں۔ (2) ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا۔ (3) ام المومنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا۔ ان دونوں کو سات سات ہزار پیش کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے مطرف بن طریف کے ارسال کی وجہ سے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6873]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6873 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: سفيان.
📝 نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "سفیان" بن گیا ہے۔
(2) رجاله ثقات، لكن اختلف على أبي إسحاق في وصله وإرساله، والإرسال أصحُّ وأكثر.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کے رجال ثقہ ہیں، لیکن ابو اسحاق پر اس کے متصل اور مرسل ہونے میں اختلاف ہوا ہے، اور مرسل ہونا زیادہ صحیح اور اکثر ہے۔
وأخرجه الدورقي في "مسند سعد" (68) عن عبيد الله بن موسى، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے دورقی نے "مسند سعد" (68) میں عبید اللہ بن موسیٰ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن زنجويه في "الأموال" (876) و (803) عن عبيد الله بن موسى، عن إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن مصعب بن سعد، فذكره مرسلًا كالحديث السابق عند المصنّف، ليس فيه والده سعد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن زنجویہ نے "الاموال" (876) اور (803) میں عبید اللہ بن موسیٰ سے، انہوں نے اسرائیل سے، انہوں نے ابو اسحاق سے، انہوں نے مصعب بن سعد سے مرسلاً روایت کیا ہے جیسا کہ مصنف کی سابقہ حدیث میں ہے، اس میں ان کے والد سعد کا ذکر نہیں ہے۔
وكذلك رواه سفيان الثوري عند ابن أبي شيبة 12/ 302، والبلاذريِّ في "أنساب الأشراف"، وأبو خيثمة زهيرُ بن معاوية عند أبي عبيد القاسم بن سلام في "الأموال" (554)، وابن سعد 3/ 283، وابن المنذر في "الأوسط" (6366)، كلاهما عن أبي إسحاق السبيعي، عن مصعب مرسلًا، وعندهم أن عطاءَ صفيةَ وجويريةَ كان ستة آلاف بدل سبعة آلاف.
🧩 متابعات و شواہد: اسی طرح اسے سفیان ثوری نے (ابن ابی شیبہ اور بلاذری کے ہاں)، اور ابو خیثمہ زہیر بن معاویہ نے (ابو عبید، ابن سعد اور ابن المنذر کے ہاں) ابو اسحاق السبیعی سے، انہوں نے مصعب سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اور ان کے ہاں صفیہ اور جویریہ کا عطیہ سات ہزار کی بجائے چھ ہزار مذکور ہے۔