🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1145. موالاة قريش أمان أهل الأرض
قریش کی محبت اہل زمین کے لیے امن ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7135
أخبرني الشيخ أبو بكر بن إسحاق، فيما قرأتُه عليه من أصلِ كتابه، أخبرنا محمد بن أحمد بن الوليد الكَرَابيسي ببغداد، حدَّثنا إسحاق بن سعيد بن الأُرْكُون الدِّمشقي، حدَّثنا خُلَيد بن دَعْلَج، عن عطاء بن أبي رباح، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"أمان أهلِ الأرض من الاختلافِ المُوالاة لقريشٍ، قريشٌ أهلُ الله، أهلُ آلاءِ الله، فإذا خالفَتْها قبيلةٌ من العرب صاروا (1) حِزبَ إبليسَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6959 - واه وفي إسناده ضعيفان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اہل زمین کے لئے اختلافات سے امان یہ ہے کہ امارت قریش کو سونپی جائے، اور قریش اللہ والے ہیں، جب عرب کا کوئی قبیلہ ان کا مخالف بنتا ہے وہ ابلیس کی جماعت بن جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7135]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7135 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ز) و (ب): صار.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) اور (ب) میں "صار" کا لفظ لکھا ہوا ہے۔
(2) إسناده تالف من أجل ابن الأُركون وشيخه خليد بن دَعلج كما سلف بيانه برقم (4766).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "تالف" (انتہائی ساقط/ناقابلِ اعتبار) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ "ابن الارکون" اور ان کے استاد "خلید بن دعلج" ہیں، جیسا کہ حدیث نمبر (4766) میں تفصیل گزر چکی ہے۔
ووهَّاه الذهبي في "التخليص" وقال: في إسناده ضعيفان.
⚖️ درجۂ حدیث: امام ذہبی نے "التلخیص" میں اسے "واہی" (انتہائی کمزور) قرار دیا ہے اور فرمایا کہ اس کی سند میں دو ضعیف راوی ہیں۔