🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1145. موالاة قريش أمان أهل الأرض
قریش کی محبت اہل زمین کے لیے امن ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7136
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حدَّثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدَّثنا محمد بن طَريف البَجَلي، حدَّثنا محمد بن فُضَيل، عن الأعمش، عن أبي سَبْرة النَّخَعي، عن محمد بن كعب القُرَظي، عن العباس بن عبد المطَّلب قال: كُنَّا نلقَى النَّفرَ من قريش وهم يتحدَّثون، فيَقطَعونَ حديثَهم، فذَكَرنا ذلك لرسولِ الله ﷺ، فقال:"ما بالُ أقوامٍ يتحدَّثون، فإذا رأَوُا الرجلَ من أهلي قَطعُوا حديثَهم؟! والله لا يدخُلُ قلبَ رجلٍ الإيمانُ حتى يُحِبَّهم لله تعالى ولِقَرابتي" (1) .
هذا حديث يُعرَف من حديث يزيد بن أبي زياد عن عبد الله بن الحارث عن العبّاس، فإذا حصل هذا الشاهدُ من حديث ابن فُضيل عن الأعمش، حكمنا له بالصِّحة. وأما حديثُ يزيد بن أبي زياد:
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم لوگ قریش سے ملتے تھے، وہ لوگ بات چیت کر رہے ہوتے، ان کو دیکھتے ہی وہ لوگ اپنی بات ختم کر دیتے، اس عمل کا ذکر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس قوم کا کیا حشر ہو گا جو آپس میں بات چیت کرتے ہیں، جیسے ہی میرے کسی رشتہ دار کو دیکھتے ہیں تو اپنی بات ختم کر دیتے ہیں، اللہ کی قسم! کسی شخص کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک قریش کے ساتھ اللہ کی رضا کے لئے اور میری رشتہ داری کی بناء پر محبت نہ کرے۔ ٭٭ یہ حدیث یزید بن ابی زیاد عن عبداللہ بن الحارث عن العباس کی سند سے معروف ہے جب اس کا شاہد ہمیں ابن فضیل کی اعمش سے روایت کردہ حدیث میں مل گیا تو ہم نے اس کے صحیح ہونے کا فیصلہ کر دیا۔ یزید بن ابی زیاد کی حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7136]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7136 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو سبرة النخعي روى عنه ثلاثة، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقال ابن معين: لا أعرفه، وقد انفرد بهذا الطريق، ومحمد بن كعب لم يدرك العباس بن عبد المطلب.
⚖️ درجۂ حدیث: دیگر شواہد کی بنا پر یہ حدیث "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ سند ضعیف ہے کیونکہ ابو سبرہ نخعی سے صرف تین لوگوں نے روایت کی ہے، ابن حبان نے انہیں ثقات میں تو رکھا مگر ابن معین نے کہا "میں انہیں نہیں جانتا"۔ نیز محمد بن کعب القرظی کا حضرت عباس بن عبد المطلب سے "ادراک" (ملاقات/سماع) ثابت نہیں ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (140) عن محمد بن طريف، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام ابن ماجہ نے (140) میں اسے محمد بن طریف کی سند سے اسی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔