🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1152. سلام النبى على الأنصار عند وفاته
وفات کے وقت نبی کریم ﷺ کا انصار کو سلام کہنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7149
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد السَّمّاك ببغداد، حدَّثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرِقان، حدَّثنا أبو داود الطَّيالسي وعبدُ الصمد بن عبد الوارث، حدَّثنا محمد بن ثابت البُناني، عن أبيه، عن أنس بن مالك، عن أبي طلحة: أنه دخل على رسولِ الله ﷺ في وَجَعِه الذي مات فيه، فقال:"أقرِئْ قومَكَ السَّلامَ، فإنهم - ما عَلِمتُ - أعِفَّةٌ صُبُرٌ" (3) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6973 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرض وفات میں ان کے پاس آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنی قوم کو میرا سلام کہنا، کیونکہ وہ لوگ پاک دامن اور صابر ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7149]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7149 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) حديث صحيح غير أمره بإقراء السلام، وهذا إسناد ضعيف من أجل محمد بن ثابت البناني.
⚖️ درجۂ حدیث: سلام پہنچانے کے حکم کے علاوہ یہ حدیث "صحیح" ہے، لیکن محمد بن ثابت بنانی کی وجہ سے اس کی یہ سند "ضعیف" ہے۔
وأخرجه الترمذي (3903) عن عبدة بن عبد الله الخزاعي، عن أبي داود وعبد الصمد، بهذا الإسناد. وقال: حسن صحيح، وفي نسخة: حسن غريب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی نے (3903) میں عبدہ بن عبداللہ خزاعی از ابوداؤد (طیالسی) و عبدالصمد کی سند سے روایت کیا ہے اور اسے "حسن صحیح" (بعض نسخوں میں حسن غریب) قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 19/ (12521) عن عبد الصمد وحده، به عن أنس، ليس فيه أبو طلحة.
🧾 تفصیلِ روایت: امام احمد نے 19/ (12521) میں اسے صرف عبدالصمد کے واسطے سے حضرت انس سے روایت کیا ہے، مگر اس سند میں حضرت ابوطالبہ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔
وأخرج الروياني (985)، والخرائطي في "مكارم الأخلاق" (28)، والشاشي (1056) و (1057)، والطبراني في "المعجم الكبير" (4709)، والصيداوي في "معجم شيوخه" من طريق مسلم بن إبراهيم، عن الحسن بن أبي جعفر، عن ثابت البناني، عن أنس، عن أبي طلحة مرفوعًا: جزاكم الله يا معشر الأنصار خيرًا، فإنكم ما علمت أعفَّة صُبر". والحسن بن أبي جعفر ضعيف. وأخرج ابن حبان (6264) وغيره من طريق الزهري، عن يزيد بن وديعة الأنصاري، عن أبي هريرة مرفوعًا: "الأنصار أعفة صبر"، وسنده حسن في المتابعات والشواهد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے رویانی (985)، خرائطی (28)، شاشی، طبرانی اور صیداوی نے مسلم بن ابراہیم از حسن بن ابی جعفر کی سند سے روایت کیا ہے، مگر حسن بن ابی جعفر ضعیف راوی ہیں۔ 📌 اہم نکتہ: ابن حبان (6264) نے اسے زہری از یزید بن ودیعہ از ابوہریرہ کی سند سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ "انصار نہایت باحیا اور صابر ہیں"، اور یہ سند متابعات و شواہد میں "حسن" ہے۔
وأخرج ابن أبي شيبة 12/ 160 من طريق محمد بن إسحاق، عن عاصم بن عمر بن قتادة مرسلًا، قال: كان رسول الله ﷺ إذا ذكر الأنصار قال: "أعفة صُبر".
📖 حوالہ / مصدر: ابن ابی شیبہ 12/ 160 نے محمد بن اسحاق از عاصم بن عمر بن قتادہ "مرسل" روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ جب بھی انصار کا ذکر کرتے تو فرماتے: "(وہ) باحیا اور صابر ہیں"۔
وانظر ما بعده.
📝 نوٹ / توضیح: اس کے بعد والی روایت بھی ملاحظہ کریں۔