المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
44. ذكر إهداء ملك الهند الزنجبيل إلى النبى
ہندوستان کے بادشاہ کی طرف سے نبی کریم ﷺ کو ادرک (زنجبیل) کا ہدیہ بھیجنے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7372
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن بكر بن سَوَادة، أن سفيان بن وَهْب حدَّثه عن أبي أيوب الأنصاريِّ: أنه أرسلَ إلى رسول الله ﷺ بطعامٍ من خَضِرةٍ، فيه بصلٌ أو كُرَّاث، فلم يَرَ فيه أثرَ رسولِ الله ﷺ، فأَبى أن يأكلَه، فقال له رسول الله ﷺ:"ما يَمنُعك أن تأكلَ؟" قال: لم أرَ أثرَ رسولِ الله ﷺ، فقال رسول الله ﷺ: أستَحْيي من ملائكةِ الله تعالى وليس بمُحرَّمٍ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7189 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7189 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جانب کچھ سبزیات بھیجیں، ان میں پیاز یا کراث (ایک بدبودار قسم کی ترکاری، جس کی بعض قسمیں پیاز اور بعض لہسن کے مشابہ ہوتی ہیں اور بعض کے سرے نہیں ہوتے، المنجد) موجود تھے۔ ان کو ان سبزیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی نشانی نظر نہیں آئی، اس لئے انہوں نے اس کے کھانے سے انکار کر دیا، دینے والے نے پوچھا کہ آپ نے اس کو کھایا کیوں نہیں؟ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس لئے کہ مجھے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کے دست مبارک) کی خوشبو نہیں آئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تو فرشتوں سے حیاء کی وجہ سے نہیں کھایا، تاہم یہ حرام نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7372]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7372 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح ابن وهب: هو عبد الله. وأخرجه ابن حبان (2092) من طريق حرملة بن يحيى، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد (38/ (23525) و (23537)، ومسلم (2003) (170)، والنسائي (6596)، من طريق سماك، عن جابر بن سمرة، عن أبي أيوب بنحوه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابن وہب سے مراد عبد اللہ بن وہب ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (2092) نے حرملہ بن یحییٰ کے طریق سے عبد اللہ بن وہب سے روایت کیا ہے۔ نیز امام احمد (38/ 23525، 23537)، امام مسلم (2003/ 170) اور امام نسائی (6596) نے اسے سماک کے طریق سے، انہوں نے جابر بن سمرة سے، انہوں نے ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی روایت کیا ہے۔
وأخرجه مطولًا ومختصرًا أحمد (23517)، ومسلم (2053) (171) من طريق أفلح مولى أبي أيوب، وأحمد (23507)، والنسائي (5996) و (6595) من طريق جبير بن نفير، وأحمد (23504) من طريق أبي عبد الرحمن الحبلي، و (23526) من طريق أبي سَوْرة، و (23570) من طريق أبي، رُهم، خمستهم عن أبي أيوب.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت مطول (تفصیلی) اور مختصر طور پر ان ذرائع سے بھی مروی ہے: امام احمد (23517) اور مسلم (2053/ 171) نے "افلح مولیٰ ابی ایوب" کے طریق سے؛ امام احمد (23507) اور نسائی (5996، 6595) نے "جبیر بن نفیر" کے طریق سے؛ امام احمد (23504) نے "ابو عبد الرحمن الحبلی"؛ (23526) میں "ابو سورہ"؛ اور (23570) میں "ابو رُہم" کے طریق سے۔ یہ پانچوں ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔