المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
42. من كن له ثلاث بنات فصبر على لأوائهن أدخله الله الجنة
جس کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی تنگی و سختی پر صبر کرے، اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا
حدیث نمبر: 7534
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدّثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدّثنا مُسدَّد، حدّثنا المُعتمِر، قال: سمعتُ حميدًا يُحدِّث عن أنس قال: مرَّ النبيُّ ﷺ بأُناسٍ من أصحابه وصبيٌّ بين ظهرانَي الطريق، فلما رأت أُمُّه الدوابَّ، خَشِيَتْ على ابنها أن يُوطأَ، فسَعَتْ والهةً، فقالت: ابني ابني، فاحتمَلَتْ ابنَها، فقال القومُ: يا نبيَّ الله، ما كانت هذه لِتُلقيَ ابنها في النار، فقال رسول الله ﷺ:"لا واللهِ، لا يُلقي الله حبيبه في النَّار"، قال: فخَصَمَهم نبيُّ الله ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7347 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7347 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ صحابہ کے پاس سے گزرے، ایک بچہ گزرگاہ میں موجود تھا، جب اس کی ماں نے سواریوں کو آتے دیکھا تو اس کے کچلے جانے کا خوف اس کو دامن گیر ہوا، وہ میرا بیٹا، میرا بیٹا پکارتی ہوئی بے ساختہ دوڑی اور آ کر اپنے بچے کو گود میں اٹھا لیا، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ اپنے بچے کو کسی بھی طور پر آگ میں ڈالنا گوارا نہیں کر سکتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ اپنے دوست کو کبھی بھی آگ میں نہیں ڈالے گا، راوی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر ان سے بحث کی۔ ٭٭ یہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7534]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7534 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. المعتمر هو ابن سليمان، وحميد: هو الطويل.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: معتمر سے مراد "ابن سلیمان" ہیں اور حمید سے مراد "حمید الطویل" ہیں۔
وسلف عند المصنّف برقم (195).
📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت مصنف کے ہاں پہلے نمبر (195) پر گزر چکی ہے۔