🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. الندم توبة .
ندامت (شرمندگی) ہی توبہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7806
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم الرَّازي. وحدثنا أبو النَّضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا عثمان بن صالح السَّهْمي، حدثنا عبد الله بن وهب، عن يحيى بن أيوب، عن حُمَيد الطَّويل، قال: قلتُ لأنس بن مالك: أسمعتَ النبيَّ ﷺ يقول:"النَّدم توبةٌ"؟ قال: نعم (2) . و
هذا حديث على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7614 - هذا من مناكير يحيى بن أيوب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ندامت ہی توبہ ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7806]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عثمان بن صالح السهمي ويحيى بن أيوب» [ترقيم الرساله 7806] [ترقيم الشركة 7713] [ترقيم العلميه 7614]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7806 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عثمان بن صالح السهمي ويحيى بن أيوب -وهو الغافقي- وقد توبعا. وحميد الطويل قد صرَّح بسماعه من أنس عند غير المصنف، فزالت شبهة تدليسه.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عثمان بن صالح السہمی اور یحییٰ بن ایوب الغافقی کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے، اور ان دونوں کی متابعت بھی موجود ہے۔ نیز راوی حمید الطویل نے دیگر مقامات پر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اپنے سماع کی صراحت کر دی ہے، جس سے ان کے "تدلیس" کا شبہ ختم ہو جاتا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (630)، والضياء المقدسي في "المختارة" 6/ (2088) و (2091) من طرق عن عثمان بن صالح السهمي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابن حبان (630) اور ضیاء المقدسی نے "الاحادیث المختارہ" (جلد 6، حدیث نمبر 2088 اور 2091) میں عثمان بن صالح السہمی کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البزار في "مسنده" (6622) عن عمرو بن مالك، والضياء (2090) من طريق خالد ابن عبد السلام الصَّدفي، كلاهما عن عبد الله بن وهب، به. وقال البزار: وهذا الحديث لا نعلم رواه عن حميد عن أنس إلّا يحيى بن أيوب، ولا نعلم يروى عن أنس إلّا من هذا الوجه!
📖 حوالہ / مصدر: اسے بزار نے اپنی "مسند" (6622) میں عمرو بن مالک کے واسطے سے، اور ضیاء المقدسی نے (2090) میں خالد بن عبدالسلام الصدفی کے واسطے سے، دونوں نے عبداللہ بن وہب سے روایت کیا ہے۔ امام بزار فرماتے ہیں کہ ہمارے علم کے مطابق یحییٰ بن ایوب کے علاوہ کسی نے حمید از انس کی سند سے اسے بیان نہیں کیا اور حضرت انس سے اسی سند سے یہ روایت جانی جاتی ہے۔
وأخرجه ابن سمعون في "الأمالي" (24)، والضياء (2089) من طريق عمرو بن الربيع بن طارق، عن يحيى بن أيوب، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سمعون نے "الامالی" (24) میں اور ضیاء المقدسی نے (2089) میں عمرو بن الربیع بن طارق از یحییٰ بن ایوب کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن عدي في "الكامل" 7/ 211 من طريقين عن يحيى بن راشد المازني، عن حميد الطويل، به. وقال: لم يروه عن حميد إلّا يحيى بن أيوب ويحيى بن راشد. قلنا: يحيى بن راشد ضعيف يعتبر به في المتابعات والشواهد.
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام ابن عدی نے "الکامل" (جلد 7، صفحہ 211) میں یحییٰ بن راشد المازنی از حمید الطویل کی سند سے اسے دو طرق سے بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ حمید سے اسے صرف یحییٰ بن ایوب اور یحییٰ بن راشد نے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: یحییٰ بن راشد اگرچہ ضعیف ہیں، لیکن متابعات و شواہد میں ان کی روایت قابلِ قبول ہوتی ہے۔
ابن عدي 1/ 200 من طريق مروان بن معاوية، عن حميد الطويل، به. وسنده لا يُفرح به، فيه أحمد بن محمد بن حرب، كذَّبه ابن عدي وابن حبان.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن عدی (جلد 1، صفحہ 200) نے مروان بن معاویہ از حمید الطویل کی سند سے بھی اسے روایت کیا ہے، لیکن یہ سند معتبر نہیں ہے کیونکہ اس میں احمد بن محمد بن حرب نامی راوی ہے جسے ابن عدی اور ابن حبان نے "کذاب" (جھوٹا) قرار دیا ہے۔
وأخرجه ابن عدي أيضًا 1/ 200 من طريق قتادة عن أنس. وفي سنده أيضًا ابن حرب هذا، لذا قال عقب هذين الطريقين: باطلان. وأخرجه الخطيب البغدادي في "موضح أوهام الجمع" 1/ 258 من طريق أبي سعد سعيد بن المرزبان البقّال، عن أنس وسنده ضعيف وفيه وهمٌ، فرواية البقال هي من حديث ابن مسعود، وانظر تخريجها عند حديث ابن مسعود في "مسند أحمد" 6/ (3568).
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن عدی نے اسے قتادہ از انس کی سند سے بھی نقل کیا ہے مگر اس میں بھی وہی کذاب راوی (ابن حرب) موجود ہے، اسی لیے ابن عدی نے ان دونوں طرق کو "باطل" قرار دیا۔ خطیب بغدادی نے بھی "موضح اوہام الجمع" میں ابو سعد البقال از انس کی سند سے اسے نقل کیا ہے، مگر یہ سند ضعیف ہے اور اس میں وہم ہوا ہے، کیونکہ البقال کی یہ روایت دراصل ابن مسعود کی حدیث ہے، جیسا کہ "مسند احمد" (جلد 6، حدیث 3568) میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔
وانظر ما قبله.
📝 نوٹ / توضیح: سابقہ روایت کو ملاحظہ فرمائیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7806 in Urdu