المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
44. تعافوا الحدود بينكم
حدود کے معاملات (حاکم تک پہنچنے سے پہلے) آپس میں معاف کر دیا کرو
حدیث نمبر: 8354
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا إبراهيم بن مرزوق، حدَّثنا وهب بن جَرير وسعيد بن عامر (1) ، عن شُعْبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدَّثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدَّثنا محمد بن جعفر، عن شُعبة، قال: سمعتُ يحيى الجابر يقول: سمعتُ أبا ماجدةَ يقول: كنتُ قاعدًا مع عبد الله بن مسعود فقال: إني لأذكرُ أولَ رجلٍ قَطَعَه رسولُ الله ﷺ، أُتِيَ بسارق فأمرَ بقطعِه، فكأنما أَسِفَ وجهُ رسول الله ﷺ، فقالوا: يا رسول الله، كأنَّك كرهتَ قطعَه، قال:"وما يَمنَعُني؟! لا تكونوا أعوانًا للشيطان على أخيكم، إنه لا يَنبَغي للإمام إذا انتَهَى إليه حدٌّ إلَّا أن يُقِيمَه، إِنَّ الله عَفُوٌّ يُحبُّ العفو، ﴿وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [النور: 22] " (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8155 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8155 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابوماجدہ فرماتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ نے فرمایا: میں اس آدمی کا نام نہیں بتاؤں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے جس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تھا، وہ ایک چور تھا، اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر افسردگی کے آثار تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لگتا ہے آپ کو اس کے ہاتھ کاٹنا ناگوار گزر رہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اور کیا؟ مجھے اس سے کیا چیز منع کرے گی؟ تم اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے بھائی مت بنو، امام کا تو فرض منصبی یہ ہے کہ جب کسی کے لئے حد ثابت ہو جائے تو وہ اس پر حد نافذ کرے۔ بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے، بخشنے کو ہی پسند کرتا ہے، اس لئے لوگوں کو چاہیے کہ معاف کر دیا کریں اور درگزر سے کام لیں۔ کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری بخشش کرے، اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا، مہربان ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8354]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8354 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) قوله: "وسعيد بن عامر" سقط من (ز) و (ب).
📝 نوٹ / توضیح: (1) قول "وسعيد بن عامر" نسخہ (ز) اور (ب) میں ساقط (غائب) ہے۔
(2) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يحيى الجابر - وهو يحيى بن عبد الله بن الحارث - ولجهالة أبي ماجدة، ويقال: أبو ماجد، وهو الحنفي الكوفي.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث "حسن لغیرہ" ہے، جبکہ یہ سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس میں یحییٰ الجابر (یحییٰ بن عبداللہ بن حارث) ضعیف ہیں اور ابو ماجدہ مجہول ہیں۔ کہا جاتا ہے ان کا نام ابو ماجد ہے اور یہ حنفی کوفی ہیں۔
وهو في "مسند أحمد 7/ (4168) عن محمد بن جعفر، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند أحمد" (7/ 4168) میں محمد بن جعفر سے اسی سند کے ساتھ موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 6/ (3711) من طريق المسعودي، و 7/ (3977) و (4169) من طريق سفيان الثوري، كلاهما عن يحيى الجابر، به. ورواية المسعودي مختصرة، وجعل السارق امرأةً!
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (6/ 3711) نے مسعودی کے طریق سے، اور (7/ 3977، 4169) سفیان ثوری کے طریق سے، دونوں نے یحییٰ الجابر سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: مسعودی کی روایت مختصر ہے اور انہوں نے چور کو "عورت" قرار دیا ہے۔
ويشهد لقوله: "لا تكونوا أعوانًا للشيطان على أخيكم" حديث أبي هريرة عند البخاري (6781).
🧩 متابعات و شواہد: آپ ﷺ کے فرمان "اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بنو" کی تائید (شاہد) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے جو بخاری (6781) میں ہے۔
ولقوله: "إنه لا ينبغي للإمام إذا انتهى إليه حدٌّ إلَّا أن يقيمه" شواهد من حديث هزال وابن عباس وصفوان بن أمية سلفت بالأرقام (8279) و (8347) و (8348)، وحديث عبد الله بن عمرو التالي، وحديث عبد الله بن عمر الآتي برقم (8357).
🧩 متابعات و شواہد: آپ ﷺ کے فرمان "جب امام تک کوئی حد (کا معاملہ) پہنچ جائے تو اسے قائم کرنا ہی چاہیے" کے لیے ہزال، ابن عباس اور صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہم کی روایات بطور شاہد موجود ہیں جو پیچھے نمبر (8279)، (8347) اور (8348) پر گزر چکی ہیں؛ نیز عبداللہ بن عمرو کی اگلی حدیث اور عبداللہ بن عمر کی حدیث جو آگے نمبر (8357) پر آ رہی ہے، بھی اس کی شاہد ہیں۔
ولقوله: "إنَّ الله عفو يحب العفو" شاهد من حديث عائشة، سلف برقم (1963).
🧩 متابعات و شواہد: فرمان "بے شک اللہ معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے" کا شاہد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے جو پیچھے نمبر (1963) پر گزر چکی ہے۔