المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
38. الصلاة فى الجماعة تعدل خمسا وعشرين صلاة فإذا صلاها فى الفلاة فأتم ركوعها وسجودها بلغت خمسين صلاة
باجماعت نماز اکیلی نماز سے پچیس درجے افضل ہے، اور اگر کھلے میدان میں پوری ادا کی جائے تو پچاس درجے تک پہنچ جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 848
أخبرنا أبو نَصْر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، حدثنا أبو عِصْمةَ سهل بن المتوكِّل البخاري، حدثنا عبد الله بن مَسلَمة القَعنَبي، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن محمد بن طَحْلاءَ، عن مُحصِن بن علي، عن عوف بن الحارث، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن توضَّأ فأحسَنَ وُضوءَه، ثم راح فوَجَدَ الناسَ قد صَلَّوْا، أعطاه الله ﷿ مثلَ أجْرِ من صلَّاها وحَضَرَها لا يَنقُصُ ذلك من أجورِهم شيئًا" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 754 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 754 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اچھی طرح وضو کیا، پھر (مسجد) گیا اور دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں، تو اللہ عزوجل اسے ان لوگوں جیسا اجر عطا فرمائے گا جنہوں نے نماز پڑھی اور اس میں حاضر ہوئے، اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 848]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 848]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 848 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن من أجل محصن بن علي.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) محصن بن علی کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه أبو داود (564) عن عبد الله بن مسلمة القعنبي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (564) نے عبداللہ بن مسلمہ القعنبی کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 14/ (8947)، والنسائي (930) من طريقين عن عبد العزيز بن محمد الدَّراوَرْدي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (8947/14) اور نسائی (930) نے عبدالعزیز بن محمد الدراوردی کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔