🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. ذكر ما أمر به النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - عند الفتنة
فتنے کے وقت نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے احکامات کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8510
أخبرنا الحسن بن حَليم، حَدَّثَنَا أحمد بن إبراهيم السَّدَوَّري، حَدَّثَنَا سعيد بن هُبَيرة، حَدَّثَنَا حمَّاد بن زيد، حَدَّثَنَا أبو عِمران الجَوْني، عن المُشعَّث بن طَريف، عن عبد الله بن الصامت، عن أبي ذرٍّ قال: قال رسول الله ﷺ:"يا أبا ذرٍّ" قلت: لبَّيك يا رسول الله وسَعدَيك، قال:"كيف أنت إذا أصاب الناسَ جوعٌ؛ تأتي مسجدَك فلا تستطيعُ أن ترجعَ إلى فِراشِك، وتأتي فراشك فلا تستطيعُ أن تنهض إلى مسجدِك؟" قلت: الله ورسوله أعلمُ - أو ما خارَ اللهُ لي ورسوله - قال:"عليك بالعِفَّة" ثم قال:"يا أبا ذرٍّ" قلت: لبَّيكَ يا رسول الله وسَعدَيك، قال:"كيف أنت إذا أصاب الناسَ موتٌ يكون البيتُ فيه بالوَصِيف؟" يعني القبرَ، قال: قلت: الله ورسوله أعلمُ - أو ما خار اللهُ لي ورسولُه - قال:"عليك بالصَّبرِ - أو قال: تَصبِرُ -" ثم قال:"يا أبا ذرٍّ" قلت: لبَّيكَ يا رسول الله وسَعدَيك (1) ، قال:"كيف أنت إذا رأيتَ أحجارَ الزيتِ قد غَرِقَت بالدم" قلت: ما خارَ الله لي ورسولُه، قال:"تَلْحَقُ بمن أنت منه - أو قال عليك بمن أنت منه -" قلت: أفلا آخذُ سيفي فأضَعُه على عاتِقي؟ قال:"شاركتَ إذًا؟ قلت: فما تأمرُني؟ قال:"تلزمُ بيتَك" قلت: أرأيتَ إن دُخِلَ عليَّ بيتي؟ قال:"فَإِن خَشِيتَ أن يَبهَرَك شُعاعُ السَّيف، فألْقِ رداءَك على وجهِك يَبُوءُ بإثمِه وإثمِك" (2) .
سیدنا عبداللہ بن صامت روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوذر! میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس وقت کیا کرو گے جب لوگ بھوکے ہوں گے؟ تم نماز پڑھو گے لیکن) کمزوری کی وجہ سے (واپس اپنے بستر پر جانے کی ہمت نہ ہو گی، اور تم بستر پر ہو گے تو نماز کی جگہ تک آنے کی طاقت نہ ہو گی۔ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، یا جو اللہ اور اس کا رسول میرے لئے منتخب فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم خود کو بچا کر رکھنا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: اے ابوذر! میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس وقت کیا کرو گے، جب تم احجارالزیت (مدینہ منورہ میں ایک مقام) میں خون ہی خون دیکھو گے؟ میں نے کہا: جو اللہ اور اس کا رسول حکم دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان سے جا ملنا , جن سے تم تعلق رکھتے ہو۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اپنی تلوار پکڑ کر اپنے کندھے پر نہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو تم ان جیسے ہو جاؤ گے۔ اور اگر تمہیں خدشہ ہو کہ تلوار کی دھار تمہارا خون بہا دے گی، تو اپنی چادر اپنے منہ پر ڈال لینا اور تیرے قتل کا ذمہ دار وہی ہو گا جو تجھے قتل کرے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8510]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8510 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) من قوله: "قال: كيف أنت إذا أصاب الناس موت" إلى هنا سقط من (ز) و (ب)، واستدركناه من (ك) و (م). وتحرَّف فيهما لفظ "البيت" إلى: الميت، و "يعني" إلى غير.
📝 نوٹ / توضیح: عبارت "قال: كیف انت اذا اصاب الناس موت" سے لے کر یہاں تک کا حصہ نسخہ (ز) اور (ب) سے ساقط ہو گیا تھا، جسے ہم نے (ک) اور (م) سے بحال کیا ہے۔ ان دونوں نسخوں میں لفظ "البیت" تحریف ہو کر "المیت"، اور لفظ "یعنی" تحریف ہو کر "غیر" بن گیا تھا۔
والمراد بالبيت هنا: القبر، وبالوصيف: الغلام قال ابن الأثير في "النهاية": أراد أنَّ مواضع القبور تضيق فيبتاعون كل قبر بوصيف.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: یہاں "بیت" (گھر) سے مراد "قبر" ہے، اور "وصیف" سے مراد "غلام" ہے۔ ابن اثیر "النھایۃ" میں فرماتے ہیں: "مراد یہ ہے کہ قبروں کی جگہیں اتنی تنگ (کم) ہو جائیں گی کہ لوگ ہر قبر ایک غلام کے بدلے خریدیں گے۔"
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل سعيد بن هبيرة كما في سابقه، لكنه متابع، وقد سلف الحديث عند المصنّف برقم (2699) من طريق سليمان بن حرب عن حماد بن زيد، فانظر تخريجه من طريق حماد بن زيد والكلام عليه هناك.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث (متن کے لحاظ سے) صحیح ہے، لیکن یہ سند سعید بن ہبیرہ کی وجہ سے ضعیف ہے جیسا کہ پچھلی روایت میں گزرا، لیکن اس کی متابعت موجود ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: یہ حدیث مصنف کے ہاں پہلے نمبر (2699) پر سلیمان بن حرب عن حماد بن زید کے طریق سے گزر چکی ہے، لہٰذا حماد بن زید کے طریق سے اس کی تخریج اور اس پر کلام وہاں دیکھیں۔