المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
128. ذكر نفخ الصور وإنبات الأجساد
صور پھونکے جانے اور جسموں کے دوبارہ اگنے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8845
وحدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا سعيد الجُريري، عن عبد الله بن شَقيق، عن مِحجَن بن الأدرَع: أنَّ رسول الله ﷺ خَطَبَ الناسَ فقال:"يومُ الخَلَاص، وما يومُ الخَلَاص؟" ثلاثَ مرات، فقيل: يا رسول الله، ما يومُ الخلاص؟ فقال:"يجيء الدجالُ فيَصعَدُ أُحدًا، فيطَّلِعُ فيَنظُرُ إلى المدينةَ، فيقول لأصحابه: ألا ترونَ إلى هذا القصر الأبيض، هذا مسجدُ أحمد، ثم يأتي المدينةَ فيجدُ بكلِّ نَقْبٍ من نِقابِها مَلَكًا مُصلِتًا، فيأتي سَبَخةَ الجُرُفِ فيضربُ رِواقَه، ثم تَرجُفُ المدينةُ ثلاثَ رَجَفات، فلا يبقى منافقٌ ولا منافقةٌ، ولا فاسقٌ ولا فاسقةٌ، إِلَّا خرج إليه، فتَخلُصُ المدينةُ، وذلك يومُ الخَلَاص" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8631 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8631 - على شرط مسلم
سیدنا مـحـجـن بن ادرع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن لوگوں کو خطبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خلاص کا دن اور خلاص کا دن کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ کہی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خلاص کے دن سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال آئے گا اور وہ احد پہاڑ پر چڑھ جائے گا، پھر وہ مدینہ کی جانب جھانک کر دیکھے گا، پھر وہ اپنے ساتھیوں سے کہے گا: کیا تم اس سفید رنگ کے محل کو دیکھ رہے ہو؟ یہ احمد (مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مسجد ہے، پھر وہ مدینہ میں آئے گا، اور مدینے کے ہر دروازے پر ایک فرشتہ پائے گا جو تلوار سونتے ہوئے ہو گا، پھر وہ پانی بہنے کی دلدلی زمین پر آئے گا، وہاں پر اپنے خیمے نصب کر لے گا، پھر مدینہ میں تین زلزلے آئیں گے۔ اور اس میں کوئی منافق مرد اور کوئی منافق عورت باقی نہیں بچے گی، نہ کوئی فاسق مرد بچے گا، نہ کوئی فاسقہ عورت بچے گی، اس طرح کے سب لوگ مدینہ سے نکل جائیں گے، مدینہ منورہ ایسے لوگوں سے خالی ہو جائے گا، یہ خلاص کا دن ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8845]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8845 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
وسَبَخة الجُرُف: السبخة: الأرض المالحة، والجُرُف: موضع بالمدينة من ناحية الشام.
📝 نوٹ / توضیح: ’سَبَخَة‘ سے مراد شور والی یا نمکین زمین ہے۔ ’الْجُرُف‘ مدینہ منورہ میں شام کی سمت ایک جگہ کا نام ہے۔
(1) صحيح لغيره دون قوله: "فيقول لأصحابه: ألا ترون هذا القصر الأبيض هذا مسجد أحمد فلم يجئ إلّا في حديث محجن هذا، ورجال إسناده عن آخرهم ثقات، إلّا أنَّ عبد الله بن شقيق أدخل بينه وبين محجن بن الأدرع في بعض حديثه رجاء بنَ أبي رجاء كما سبق بيانه عند الحديث رقم (8520)، ورجاء هذا قد تفرَّد بالرواية عنه عبد الله بن شقيق على أنَّ سماع عبد الله من محجن غير مدفوع، فقد سمع ممَّن هو أقدم وفاةً منه، ثم إنه بلديُّه، فكلاهما بصريٌّ.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث ’صحیح لغیرہ‘ ہے، سوائے اس قول کے: "وہ (دجال) اپنے ساتھیوں سے کہے گا: کیا تم اس سفید محل کو دیکھ رہے ہو؟ یہ احمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مسجد ہے۔" یہ الفاظ صرف محجن کی اس حدیث میں آئے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند کے تمام راوی ثقہ ہیں، مگر عبد اللہ بن شقیق نے اپنی بعض روایات میں اپنے اور محجن بن ادرع کے درمیان ’رجاء بن ابی رجاء‘ کا واسطہ داخل کیا ہے جیسا کہ حدیث نمبر (8520) کے تحت بیان ہو چکا ہے۔ رجاء سے روایت کرنے میں عبد اللہ بن شقیق متفرد ہیں۔ اگرچہ محجن سے عبد اللہ کے براہِ راست سماع کا انکار نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ انہوں نے محجن سے زیادہ قدیم وفات پانے والوں سے بھی سنا ہے اور وہ دونوں ہم وطن (بصری) ہیں، [تاہم واسطے کا احتمال موجود ہے]۔
وأخرجه أحمد 31/ (18975)، وحنبل بن إسحاق في "الفتن" (13)، وابن قانع في "معجم الصحابة" 3/ 66، والمستغفري في "دلائل النبوة" (332) من طرق عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد [31/ (18975)]، حنبل بن اسحاق نے "الفتن" (13) میں، ابن قانع نے "معجم الصحابۃ" [3/ 66] میں اور مستغفری نے "دلائل النبوۃ" (332) میں حماد بن سلمہ کے طرق سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ويشهد له دون قصة القصر الأبيض: حديث جابر عند أحمد 22/ (14112)، ورجاله ثقات.
🧩 متابعات و شواہد: سفید محل کے قصے کے علاوہ باقی حدیث کی تائید حضرت جابر کی اس حدیث سے ہوتی ہے جو مسند احمد [22/ (14112)] میں ہے، اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
وحديث أنس عند أحمد 20/ (12986)، والبخاري (1881)، ومسلم (2943).
🧩 متابعات و شواہد: نیز حضرت انس کی حدیث سے بھی تائید ہوتی ہے جو مسند احمد [20/ (12986)]، بخاری (1881) اور مسلم (2943) میں موجود ہے۔
وحديث أبي أمامة عند ابن ماجه (4077) في حديث طويل.
🧩 متابعات و شواہد: اسی طرح حضرت ابو امامہ کی ایک طویل حدیث جو ابن ماجہ (4077) میں ہے، اس مفہوم کی تائید کرتی ہے۔