🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

128. ذِكْرُ نَفْخِ الصُّورِ وَإِنْبَاتِ الْأَجْسَادِ
صور پھونکے جانے اور جسموں کے دوبارہ اگنے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8845
وحدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا سعيد الجُريري، عن عبد الله بن شَقيق، عن مِحجَن بن الأدرَع: أنَّ رسول الله ﷺ خَطَبَ الناسَ فقال:"يومُ الخَلَاص، وما يومُ الخَلَاص؟" ثلاثَ مرات، فقيل: يا رسول الله، ما يومُ الخلاص؟ فقال:"يجيء الدجالُ فيَصعَدُ أُحدًا، فيطَّلِعُ فيَنظُرُ إلى المدينةَ، فيقول لأصحابه: ألا ترونَ إلى هذا القصر الأبيض، هذا مسجدُ أحمد، ثم يأتي المدينةَ فيجدُ بكلِّ نَقْبٍ من نِقابِها مَلَكًا مُصلِتًا، فيأتي سَبَخةَ الجُرُفِ فيضربُ رِواقَه، ثم تَرجُفُ المدينةُ ثلاثَ رَجَفات، فلا يبقى منافقٌ ولا منافقةٌ، ولا فاسقٌ ولا فاسقةٌ، إِلَّا خرج إليه، فتَخلُصُ المدينةُ، وذلك يومُ الخَلَاص" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8631 - على شرط مسلم
سیدنا مـحـجـن بن ادرع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن لوگوں کو خطبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خلاص کا دن اور خلاص کا دن کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ کہی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خلاص کے دن سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال آئے گا اور وہ احد پہاڑ پر چڑھ جائے گا، پھر وہ مدینہ کی جانب جھانک کر دیکھے گا، پھر وہ اپنے ساتھیوں سے کہے گا: کیا تم اس سفید رنگ کے محل کو دیکھ رہے ہو؟ یہ احمد (مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مسجد ہے، پھر وہ مدینہ میں آئے گا، اور مدینے کے ہر دروازے پر ایک فرشتہ پائے گا جو تلوار سونتے ہوئے ہو گا، پھر وہ پانی بہنے کی دلدلی زمین پر آئے گا، وہاں پر اپنے خیمے نصب کر لے گا، پھر مدینہ میں تین زلزلے آئیں گے۔ اور اس میں کوئی منافق مرد اور کوئی منافق عورت باقی نہیں بچے گی، نہ کوئی فاسق مرد بچے گا، نہ کوئی فاسقہ عورت بچے گی، اس طرح کے سب لوگ مدینہ سے نکل جائیں گے، مدینہ منورہ ایسے لوگوں سے خالی ہو جائے گا، یہ خلاص کا دن ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8845]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8846
أخبرنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيّاري بمَرْو، حدثنا أبو الموجِّه محمد بن عمرو الفَزَاري، حدثنا عَبْدانُ بن عثمان، أخبرني أبي، عن شُعبة، عن النُّعمان ابن سالم، عن يعقوب بن عاصم، عن عبد الله بن عمرو قال: والله لولا شيءٌ ما حدَّثتُكم حديثًا، قالوا: إنك قلتَ: لا تقومُ الساعةُ إلى كذا وكذا، قال: إنما قلتُ: لا يكونُ كذا وكذا حتى يكونَ أمرٌ عظيمٌ (1) ، فقد كان ذاكَ، فقد حُرِّق البيتُ، وكان كذا، وقال رسول الله ﷺ:"يخرج الدَّجالُ فيلبَتُ في أمتي ما شاء الله، يَلبَثُ أربعين"، ولا أدري ليلةً أو شهرًا أو سنةً، قال:"ثم يَبْعَثُ الله عيسى ابنَ مريمَ ﵇ كأنه عُرُوةُ بنُ مسعود الثَّقفي، قال: فيطلبُه حتى يُهلِكَه، قال: ثم يبقى الناسُ سبعَ سنين، ليس بين اثنين عَدَاوَةٌ، قال: فيبعثُ الله ريحًا باردةً تجيءُ من قِبَل الشام، فلا تَدَعُ أحدًا في قلبه مثقال ذرّةِ إيمانٍ إِلَّا قَبَضَت روحَه، [حتى] لو أن أحدَكم في كَبِدِ جبلٍ [دَخَلَت عليه"، سمعت هذه من رسول الله ﷺ: كَبِد جبل] (2) قال:"ثم يبقى شِرارُ الناس، من لا يعرفُ معروفًا ولا ينكرُ منكرًا، في خِفّة الطير وأحلام السِّباع، قال: فيجيئُهم الشيطانُ فيقول: ألا تستجيبونَ؟ قال: فيقولون: ماذا تأمرُنا؟ قال: فيأمرُهم بعبادة الأوثان فيَعبُدونها، وهم في ذلك دارٌّ رِزقُهم، حسنٌ عيَشُهم، قال: ثم يُنفَخُ في الصُّور فلا يَسمعُه أحدٌ إِلَّا أَصغَى، فيكونُ أولَ من يَسمعُه رجلٌ يَلُوطُ حوضَ إبلِه، قال: فيَصعَةُ، ثم يَصعَقُ الناسُ، فيُرسِلُ الله مطرًا كأنه الطَّلُّ، قال: فَتَنبُتُ أجسادُهم، قال: ثم يُنفَخُ فيه فإذا هم قيامٌ يَنظُرون، فيقال: هَلُمَّ إلى ربِّكم، قِفُوهم إنهم مسؤُولون، قال: فيقال: أَخرجوا بَعْثَ النارِ، قال: فيقال: كم؟ فيقال: من كلِّ ألفٍ تسعَ مئة وتسعةً وتسعين" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8632 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! اگر ایک چیز نہ ہوتی تو میں تمہیں کوئی بھی حدیث نہ سناتا، صحابہ کرام نے کہا: تم نے تو کہا ہے کہ فلاں فلاں واقعات رونما ہونے تک قیامت قائم نہیں ہو گی، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے تو یہ کہا تھا کہ فلاں فلاں واقعات اس وقت تک رونما نہیں ہوں گے جب تک ایک امر عظیم واقع نہیں ہو گا، اور وہ ہو چکا ہے۔ بیت اللہ شریف کو جلا دیا گیا ہے، اور ایسا ہونا ہی تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دجال ظاہر ہو گا، وہ میری امت میں اتنا عرصہ رہے گا جتنا عرصہ اللہ تعالیٰ چاہے گا، وہ چالیس رہے گا، مجھے نہیں معلوم کہ چالیس دن، یا چالیس مہینے یا چالیس سال رہے گا۔ آپ فرماتے ہیں: پھر اللہ تعالیٰ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمائے گا، ان کی شباہت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جیسی ہو گی، وہ دجال کو ڈھونڈیں گے اور اس کو قتل کر دیں گے، پھر لوگ ستر سال تک مزید رہیں گے، لوگوں کی آپس میں کسی قسم کی کوئی عداوت نہیں ہو گی۔ پھر اللہ تعالیٰ ملک شام کی جانب سے ٹھنڈی ہوا بھیجے گا، وہ ہوا ہر صاحب ایمان کی روح کو قبض کر لے گی، حتی کہ کوئی مومن شخص کسی پہاڑ کے اندر موجود ہو گا تو یہ ہوا اس تک بھی پہنچے گی، یہ کبد جبل کے الفاظ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنے ہیں، اس کے بعد روئے زمین پر سب خبیث لوگ رہ جائیں گے، جو پرندوں کی طرح کمزور اور درندہ صفت ہوں گے وہ نہ کسی اچھائی کو اچھا جانیں گے اور نہ برائی کو برا سمجھیں گے، ان کے پاس شیطان کسی شکل میں آئے گا اور کہے گا: تم میری بات کیوں نہیں مانتے ہو؟ لوگ پوچھیں گے کہ تم ہمیں کس چیز کا حکم دیتے ہو؟ وہ ان کو بتوں کی عبادت کرنے کا حکم دے گا، وہ لوگ بتوں کی عبادت کرنے لگ جائیں گے، جو لوگ بتوں کی عبادت میں مبتلا ہوں گے، ان کے رزق میں اضافہ ہو جائے گا اور ان کی بودوباش بہت اچھی ہو جائے گی۔ پھر صور پھونکا جائے گا، اس کی آواز کو جو سنے گا وہ اپنی گردن جھکا کر اٹھائے گا۔ سب سے پہلے اس کو ایک ایسا آدمی سنے گا جو اپنے اونٹ کے حوض کو درست کر رہا ہو گا پھر وہ بے ہوش ہو کر گر جائے گا، پھر دوسرے لوگ بھی بے ہوش ہو جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان پر بارشیں نازل فرمائے گا جو کہ شبنم کے قطروں کی مانند ہو گی پھر ان کے جسم تروتازہ ہو جائیں گے۔ پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا، تو یہ لوگ کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے، ان کو کہا جائے گا کہ اپنے رب کی بارگاہ میں حاضری دو، وہاں پر ان سے سوال کئے جائیں گے، پھر کہا جائے گا: دوزخ میں جانے والوں کو نکالا جائے، پوچھا جائے گا: کتنے؟ جواب دیا جائے گا: ہزار میں سے 999۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8846]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8847
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرُو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن إبراهيم بن مُهاجِر، عن مجاهد، عن مُورِّق، عن أبي ذرٍّ قال: قال رسول الله ﷺ:"إني أَرى ما لا تَرَون، وأسمعُ ما لا تَسمعون، إنَّ السماء أَطَّتْ، وحُقَّ لها أن تَئِطَّ، ما فيها - أو ما منها - موضعُ أربعِ أصابعَ إلَّا ومَلَكٌ واضعٌ جبهتَه ساجدًا (1) لله، والله لو تعلمون ما أعلمُ لَضحِكتُم قليلًا ولبكيتُم كثيرًا، وما تلذَّذتُم بالنساء على الفُرُشات (2) ، ولخرجتُم إلى الصُّعُدات تجأَرُون إلى الله"، والله لوَدِدتُ أن كنت شجرةً تُعضَدُ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8633 - صحيح
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے، اور میں وہ کچھ سنتا ہوں جو تم نہیں سن سکتے، آسمان چرچراتا ہے، اور جو کچھ اس کے اندر ہے اور (اگر اس کو دیکھا جائے تو) اس کے چرچرانے کا حق ہے، چار انگلیوں کے برابر کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں پر فرشتہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز نہ ہو، اور اللہ کی قسم! جو کچھ میں جانتا ہوں، اگر تم یہ سب جان لو تو تم بہت کم ہنسو اور بہت زیادہ روؤ، اور بستروں پر تم اپنی عورتوں کے ساتھ لذت حاصل کرنا بھول جاؤ، اور تم اللہ کی پناہ لینے کے لئے ٹیلوں، اور پہاڑوں پر چڑھ جاؤ، اور اللہ کی قسم! کاش کہ میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8847]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8848
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى وأبو محمد بن زياد الدَّورَقي قالا: حدثنا الإمام أبو بكر محمد بن إسحاق بن خُزَيمة، حدثنا محمد بن حسَّان الأزرق، حدثنا رَيْحان بن سعيد حدثنا عَبَّاد - هو ابن منصور - عن أيوب، عن أبي قِلابةَ، عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ:"سيُدرِكُ رِجالٌ (4) من أمَّتي عيسى ابنَ مريمَ ﵉، ويشهدون (5) قتالَ الدَّجّال" (6) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8634 - منكر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو پائیں گے اور دجال کے قتل کا مشاہدہ بھی کریں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8848]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں