المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
128. ذكر نفخ الصور وإنبات الأجساد
صور پھونکے جانے اور جسموں کے دوبارہ اگنے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8847
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرُو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن إبراهيم بن مُهاجِر، عن مجاهد، عن مُورِّق، عن أبي ذرٍّ قال: قال رسول الله ﷺ:"إني أَرى ما لا تَرَون، وأسمعُ ما لا تَسمعون، إنَّ السماء أَطَّتْ، وحُقَّ لها أن تَئِطَّ، ما فيها - أو ما منها - موضعُ أربعِ أصابعَ إلَّا ومَلَكٌ واضعٌ جبهتَه ساجدًا (1) لله، والله لو تعلمون ما أعلمُ لَضحِكتُم قليلًا ولبكيتُم كثيرًا، وما تلذَّذتُم بالنساء على الفُرُشات (2) ، ولخرجتُم إلى الصُّعُدات تجأَرُون إلى الله"، والله لوَدِدتُ أن كنت شجرةً تُعضَدُ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8633 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8633 - صحيح
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے، اور میں وہ کچھ سنتا ہوں جو تم نہیں سن سکتے، آسمان چرچراتا ہے، اور جو کچھ اس کے اندر ہے اور (اگر اس کو دیکھا جائے تو) اس کے چرچرانے کا حق ہے، چار انگلیوں کے برابر کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں پر فرشتہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز نہ ہو، اور اللہ کی قسم! جو کچھ میں جانتا ہوں، اگر تم یہ سب جان لو تو تم بہت کم ہنسو اور بہت زیادہ روؤ، اور بستروں پر تم اپنی عورتوں کے ساتھ لذت حاصل کرنا بھول جاؤ، اور تم اللہ کی پناہ لینے کے لئے ٹیلوں، اور پہاڑوں پر چڑھ جاؤ، اور اللہ کی قسم! کاش کہ میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8847]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8847 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ز) و (ب): ساجد، على صورة الرفع والمثبت من (ك) و (م)، وهو الجادَّة.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں ’ساجد‘ (حالتِ رفع کی صورت میں) ہے، جبکہ متن میں جو لفظ (ساجداً) لکھا گیا ہے وہ نسخہ (ک) اور (م) سے لیا گیا ہے اور وہی درست طریقہ ہے۔
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى فرحات.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر ’فرحات‘ بن گیا ہے۔
(3) حسن لغيره، وقد سلف برقم (3927) من طريق أحمد بن حازم الغفاري عن عبيد الله بن موسى. وسيأتي مكررًا بالإسناد الذي هنا برقم (8941).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث ’حسن لغیرہ‘ ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ پہلے نمبر (3927) پر احمد بن حازم الغفاری عن عبید اللہ بن موسیٰ کے طریق سے گزر چکی ہے۔ اور یہاں والی سند کے ساتھ دوبارہ نمبر (8941) پر آئے گی۔