المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
128. ذكر نفخ الصور وإنبات الأجساد
صور پھونکے جانے اور جسموں کے دوبارہ اگنے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8846
أخبرنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيّاري بمَرْو، حدثنا أبو الموجِّه محمد بن عمرو الفَزَاري، حدثنا عَبْدانُ بن عثمان، أخبرني أبي، عن شُعبة، عن النُّعمان ابن سالم، عن يعقوب بن عاصم، عن عبد الله بن عمرو قال: والله لولا شيءٌ ما حدَّثتُكم حديثًا، قالوا: إنك قلتَ: لا تقومُ الساعةُ إلى كذا وكذا، قال: إنما قلتُ: لا يكونُ كذا وكذا حتى يكونَ أمرٌ عظيمٌ (1) ، فقد كان ذاكَ، فقد حُرِّق البيتُ، وكان كذا، وقال رسول الله ﷺ:"يخرج الدَّجالُ فيلبَتُ في أمتي ما شاء الله، يَلبَثُ أربعين"، ولا أدري ليلةً أو شهرًا أو سنةً، قال:"ثم يَبْعَثُ الله عيسى ابنَ مريمَ ﵇ كأنه عُرُوةُ بنُ مسعود الثَّقفي، قال: فيطلبُه حتى يُهلِكَه، قال: ثم يبقى الناسُ سبعَ سنين، ليس بين اثنين عَدَاوَةٌ، قال: فيبعثُ الله ريحًا باردةً تجيءُ من قِبَل الشام، فلا تَدَعُ أحدًا في قلبه مثقال ذرّةِ إيمانٍ إِلَّا قَبَضَت روحَه، [حتى] لو أن أحدَكم في كَبِدِ جبلٍ [دَخَلَت عليه"، سمعت هذه من رسول الله ﷺ: كَبِد جبل] (2) قال:"ثم يبقى شِرارُ الناس، من لا يعرفُ معروفًا ولا ينكرُ منكرًا، في خِفّة الطير وأحلام السِّباع، قال: فيجيئُهم الشيطانُ فيقول: ألا تستجيبونَ؟ قال: فيقولون: ماذا تأمرُنا؟ قال: فيأمرُهم بعبادة الأوثان فيَعبُدونها، وهم في ذلك دارٌّ رِزقُهم، حسنٌ عيَشُهم، قال: ثم يُنفَخُ في الصُّور فلا يَسمعُه أحدٌ إِلَّا أَصغَى، فيكونُ أولَ من يَسمعُه رجلٌ يَلُوطُ حوضَ إبلِه، قال: فيَصعَةُ، ثم يَصعَقُ الناسُ، فيُرسِلُ الله مطرًا كأنه الطَّلُّ، قال: فَتَنبُتُ أجسادُهم، قال: ثم يُنفَخُ فيه فإذا هم قيامٌ يَنظُرون، فيقال: هَلُمَّ إلى ربِّكم، قِفُوهم إنهم مسؤُولون، قال: فيقال: أَخرجوا بَعْثَ النارِ، قال: فيقال: كم؟ فيقال: من كلِّ ألفٍ تسعَ مئة وتسعةً وتسعين" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8632 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8632 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! اگر ایک چیز نہ ہوتی تو میں تمہیں کوئی بھی حدیث نہ سناتا، صحابہ کرام نے کہا: تم نے تو کہا ہے کہ فلاں فلاں واقعات رونما ہونے تک قیامت قائم نہیں ہو گی، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے تو یہ کہا تھا کہ فلاں فلاں واقعات اس وقت تک رونما نہیں ہوں گے جب تک ایک امر عظیم واقع نہیں ہو گا، اور وہ ہو چکا ہے۔ بیت اللہ شریف کو جلا دیا گیا ہے، اور ایسا ہونا ہی تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دجال ظاہر ہو گا، وہ میری امت میں اتنا عرصہ رہے گا جتنا عرصہ اللہ تعالیٰ چاہے گا، وہ چالیس رہے گا، مجھے نہیں معلوم کہ چالیس دن، یا چالیس مہینے یا چالیس سال رہے گا۔ آپ فرماتے ہیں: پھر اللہ تعالیٰ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمائے گا، ان کی شباہت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جیسی ہو گی، وہ دجال کو ڈھونڈیں گے اور اس کو قتل کر دیں گے، پھر لوگ ستر سال تک مزید رہیں گے، لوگوں کی آپس میں کسی قسم کی کوئی عداوت نہیں ہو گی۔ پھر اللہ تعالیٰ ملک شام کی جانب سے ٹھنڈی ہوا بھیجے گا، وہ ہوا ہر صاحب ایمان کی روح کو قبض کر لے گی، حتی کہ کوئی مومن شخص کسی پہاڑ کے اندر موجود ہو گا تو یہ ہوا اس تک بھی پہنچے گی، یہ ” کبد جبل “ کے الفاظ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنے ہیں، اس کے بعد روئے زمین پر سب خبیث لوگ رہ جائیں گے، جو پرندوں کی طرح کمزور اور درندہ صفت ہوں گے وہ نہ کسی اچھائی کو اچھا جانیں گے اور نہ برائی کو برا سمجھیں گے، ان کے پاس شیطان کسی شکل میں آئے گا اور کہے گا: تم میری بات کیوں نہیں مانتے ہو؟ لوگ پوچھیں گے کہ تم ہمیں کس چیز کا حکم دیتے ہو؟ وہ ان کو بتوں کی عبادت کرنے کا حکم دے گا، وہ لوگ بتوں کی عبادت کرنے لگ جائیں گے، جو لوگ بتوں کی عبادت میں مبتلا ہوں گے، ان کے رزق میں اضافہ ہو جائے گا اور ان کی بودوباش بہت اچھی ہو جائے گی۔ پھر صور پھونکا جائے گا، اس کی آواز کو جو سنے گا وہ اپنی گردن جھکا کر اٹھائے گا۔ سب سے پہلے اس کو ایک ایسا آدمی سنے گا جو اپنے اونٹ کے حوض کو درست کر رہا ہو گا پھر وہ بے ہوش ہو کر گر جائے گا، پھر دوسرے لوگ بھی بے ہوش ہو جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان پر بارشیں نازل فرمائے گا جو کہ شبنم کے قطروں کی مانند ہو گی پھر ان کے جسم تروتازہ ہو جائیں گے۔ پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا، تو یہ لوگ کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے، ان کو کہا جائے گا کہ اپنے رب کی بارگاہ میں حاضری دو، وہاں پر ان سے سوال کئے جائیں گے، پھر کہا جائے گا: دوزخ میں جانے والوں کو نکالا جائے، پوچھا جائے گا: کتنے؟ جواب دیا جائے گا: ہزار میں سے 999۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8846]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8846 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: أمرًا عظيمًا، على النصب، ولا وجه له، فإن "يكون" هنا تامّة، والمعنى: حتى يحصل أمر عظيم.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ الفاظ ’أمرًا عظيمًا‘ (حالتِ نصب میں) لکھے ہیں، جس کی کوئی نحوی توجیہ نہیں بنتی، کیونکہ یہاں لفظ "یکون" تامہ (مکمل) ہے، لہٰذا اس کا معنی ہے: "یہاں تک کہ ایک بڑا معاملہ پیش آجائے" (اس لیے یہ حالتِ رفع میں ہونا چاہیے)۔
(2) ما بين المعقوفين ليس في نسخنا الخطية، وهو من "تلخيص الذهبي".
📝 نوٹ / توضیح: بریکٹ (قوسین) میں موجود عبارت ہمارے قلمی نسخوں میں نہیں ہے، یہ امام ذہبی کی "التلخیص" سے لی گئی ہے۔
(3) إسناده صحيح. عبدان بن عثمان: هو عبد الله بن عثمان بن جَبَلة المروزي، وعبدانُ لقبة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عبدان بن عثمان سے مراد ’عبد اللہ بن عثمان بن جبلہ مروزی‘ ہیں، اور ’عبدان‘ ان کا لقب ہے۔
وقد انفرد المصنف بإخراج هذا الحديث من طريق عبدان، وسيأتي برقم (8867) من طريق محمد بن جعفر عن شعبة، وانظر تخريجه هناك. واستدراك المصنف له ذهولٌ، فإنه عند مسلم في "صحيحه" كما سيأتي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف (امام ابن حبان) اس حدیث کو عبدان کے طریق سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ آگے یہی حدیث نمبر (8867) پر محمد بن جعفر عن شعبہ کے طریق سے آئے گی، اس کی تخریج وہیں دیکھیں۔ مصنف کا یہ کہنا کہ یہ حدیث مسلم میں نہیں ہے (استدراک)، ان کا وہم یا بھول ہے، کیونکہ یہ صحیح مسلم میں موجود ہے جیسا کہ آگے ذکر ہوگا۔