🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
52. باب : صفوف النساء
باب: عورتوں کی صف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1000
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وعَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کی سب سے بہتر صف ان کی پچھلی صف ہے، اور سب سے خراب صف ان کی اگلی صف ہے ۱؎، مردوں کی سب سے اچھی صف ان کی اگلی صف ہے، اور سب سے بری صف ان کی پچھلی صف ہے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1000]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث العلاء عن أبیہ تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14083)، وحدیث سہیل عن أبیہ قد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 28 (441)، سنن الترمذی/الصلاة 52 (224)، (تحفة الأشراف: 12701)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 98 (678)، سنن النسائی/الإمامة 32 (821)، مسند احمد (2/247، 336، 340، 366، 485)، سنن الدارمی/الصلاة 52 (1304) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اگلی صف سے مراد امام کے پیچھے والی صف ہے، سب سے اچھی صف پہلی صف ہے کا مطلب یہ ہے کہ دوسری صفوں کی بہ نسبت اس میں خیر و بھلائی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ جو صف امام سے قریب ہوتی ہے تو جو لوگ اس میں ہوتے ہیں وہ امام سے براہ راست مستفید ہوتے ہیں، تلاوت قرآن اور تکبیرات سنتے ہیں، اور عورتوں سے دور رہنے کی وجہ سے نماز میں خلل انداز ہونے والے وسوسوں اور برے خیالات سے عام طور سے محفوظ رہتے ہیں، اور سب سے بری صف ان مردوں کی آخری صف ہے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں خیر و بھلائی دوسری صفوں کی بہ نسبت کم ہے، یہ مطلب نہیں کہ اس میں جو لوگ ہوں گے وہ برے ہوں گے۔ ۲؎: عورتوں کی آخری صف اس لئے بہتر ہے کہ وہ مردوں سے دور ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ فتنوں سے محفوظ رہتی ہیں، اور عورتوں کی اگلی صف سب سے خراب صف اس لئے ہے کہ وہ مردوں سے قریب ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ شیطان کے وسوسوں اور فتنوں سے محفوظ نہیں رہ پاتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥سهيل بن أبي صالح السمان، أبو يزيد
Newسهيل بن أبي صالح السمان ← أبو صالح السمان
ثقة
👤←👥أبو هريرة الدوسي
Newأبو هريرة الدوسي ← سهيل بن أبي صالح السمان
صحابي
👤←👥عبد الرحمن بن يعقوب الجهني، أبو العلاء
Newعبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥العلاء بن عبد الرحمن الحرقي، أبو شبل
Newالعلاء بن عبد الرحمن الحرقي ← عبد الرحمن بن يعقوب الجهني
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد العزيز بن محمد الدراوردي، أبو محمد
Newعبد العزيز بن محمد الدراوردي ← العلاء بن عبد الرحمن الحرقي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله
Newأحمد بن عبدة الضبي ← عبد العزيز بن محمد الدراوردي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
821
خير صفوف الرجال أولها شرها آخرها خير صفوف النساء آخرها شرها أولها
صحيح مسلم
985
خير صفوف الرجال أولها شرها آخرها خير صفوف النساء آخرها شرها أولها
جامع الترمذي
224
خير صفوف الرجال أولها شرها آخرها خير صفوف النساء آخرها شرها أولها
سنن أبي داود
678
خير صفوف الرجال أولها شرها آخرها خير صفوف النساء آخرها شرها أولها
سنن ابن ماجه
1000
خير صفوف النساء آخرها شرها أولها خير صفوف الرجال أولها شرها آخرها
مسندالحميدي
1030
خير صفوف الرجال أولها، وشرها آخرها، وخير صفوف النساء آخرها، وشرها أولها
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1000 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1000
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بہترین صف سے مراد وہ صف ہے۔
جس میں ثواب سب سے زیادہ ہے۔
اور سب سے نکمی صف سے مراد وہ صف ہے۔
جس میں ثواب سب سے کم ہے۔
تاہم ثواب اس میں بھی موجود ہے
(2)
عورتوں کی پچھلی صفوں کے افضل ہونے کی حکمت یہ ہے کہ وہ مردوں کے اختلاط سے دور ہوتی ہیں۔
اسی وجہ سے عورت کا گھر میں نماز پڑھنا مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1000]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 678
عورتوں کی صف کا بیان اور یہ کہ وہ پہلی صف سے پیچھے ہو۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں کی بہترین صف (اجر و فضیلت میں) پہلی صف ہے اور کم تر آخری صف ہے۔ اور عورتوں کی بہترین صف وہ ہے جو سب سے آخر میں ہو اور (اجر و فضیلت میں) کم تر وہ ہے جو سب سے پہلی ہو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 678]
678۔ اردو حاشیہ:
مردوں کے لیے نمازوں اور دیگر امور حیات کے لیے گھروں سے باہر نکلنا مطلو ب ہے، اس لیے ان کے لیے اولین صف میں جگہ اور زیادہ سے زیادہ وقت مسجد میں گزارنا باعث اجر و فضلیت ہے اور جوجس قدر تاخیر سے آتا ہے اس کا درجہ کم ہوتا چلا جاتا ہے مگر عورتوں کے لیے افضل و اعلیٰ یہ ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ٹکی رہیں۔ تاہم نماز کے لیے ان کا مسجد میں آنا جائز ہے، تو جو عورت عین وقت پر گھر سے نکلتی اور کم سے کم وقت گھر سے باہر رہتی ہے اور اس وجہ سے آخری صفوں میں جگہ پاتی ہے، وہ افضل ہے اس عورت سے جو پہلے آتی، پہلی صف میں جگہ لیتی اور زیادہ وقت گھر سے باہر رہتی ہے۔ نیز مردوں کی آخری صف عورتوں سے قریب ہوتی ہے اور عورتوں کی پہلی صف مردوں کے قریب ہوتی ہے۔ اس لیے بھی ان دونوں صفوں کو کمتر درجے کی قرار دیا گیا جبکہ مردوں کی پہلی صف اور عورتوں کی آخری صف ایک دوسرے سے دور ہوتی ہے اور وہاں تشویش اور توجہ بٹنے کا اندیشہ نہیں رہتا اس لیے ان کا اجر زیادہ ہے۔ آج کل مردوں اور عورتوں کی نماز میں باقاعدہ آڑ اور الگ حصے کا جو انتظام ہے، اس میں اس تشویش کا بھی امکان بہت کم ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 678]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 821
عورتوں کی سب سے بہتر اور مردوں کی سب سے بدتر صفوں کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں کی سب سے بہتر صف پہلی صف ہے ۱؎، اور بد تر صف آخری صف ہے ۲؎، اور عورتوں کی سب سے بہتر صف آخری صف ہے ۳؎، اور ان کی سب سے بدتر صف پہلی صف ہے ۴؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 821]
821 ۔ اردو حاشیہ: مردوں کے لیے پہلی صف ہر لحاظ سے بہترین ہے کیونکہ صف اول افضل بھی ہے اور عورتوں سے دور بھی۔ بہترین سے مراد بہت زیادہ ثواب والی۔ مردوں کی آخری صف ثواب اور درجے کے لحاظ سے بھی کم ثواب والی ہے اور اگر وہ عورتوں سے قریب ہے تو مزید نقص پیدا ہو جائے گا کیونکہ مردوں اور عورتوں کا قرب نماز سے غفلت اور فتنے کا موجب ہے۔ عورتوں کی اول صف کا بدترین اور آخری صف کا بہترین ہونا تب ہے کہ اگر وہ مردوں کے پیچھے کھڑی ہیں۔ اگر وہ مردوں سے الگ ہیں تو یہ فرق نہیں ہو گا۔ ویسے عورت کی افضل نماز گھر ہی میں ہے۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ عورت کے مسجد میں آکر باجماعت نماز پڑھنے کو اس کے گھر میں نماز پڑھنے سے افضل یا اس کے برابر کر دے تو کوئی بعید امر نہیں مگر ہم ظاہری نص کی روشنی میں یہی کہیں گے کہ عورت کی نماز گھر ہی میں افضل ہے الا یہ کہ مسجد میں نماز باجماعت کے علاوہ تعلیم و تربیت کی محفل کا بھی اہتمام ہو تو ممکن ہے اس غرض سے آنے والی خاتون افضلیت کو پالے۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 821]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 224
پہلی صف کی فضیلت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں کی سب سے بہتر صف پہلی صف ہے ۱؎ اور سب سے بری آخری صف اور عورتوں کی سب سے بہتر صف آخری صف ۲؎ ہے اور سب سے بری پہلی صف ۳؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 224]
اردو حاشہ:
1؎:
پہلی صف سے مراد وہ صف ہے جو امام سے متصل ہو سب سے بہتر صف پہلی صف ہے کامطلب یہ ہے کہ دوسری صفوں کی بہ نسبت اس میں خیر و بھلائی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ جو صف امام سے قریب ہوتی ہے اس میں جو لوگ ہوتے ہیں وہ امام سے براہِ راست فائدہ اٹھاتے ہیں،
تلاوت قرآن اور تکبیرات سنتے ہیں،
اور عورتوں سے دور رہنے کی وجہ سے نماز میں خلل انداز ہونے والے وسوسوں اور بُرے خیالات سے محفوظ رہتے ہیں،
اور آخری صف سب سے بُری صف ہے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں خیر و بھلائی دوسری صفوں کی بہ نسبت کم ہے،
یہ مطلب نہیں کہ اس میں جو لوگ ہوں گے وہ برے ہوں گے۔

2؎:
عورتوں کی سب سے آخری صف اس لیے بہتر ہے کہ یہ مردوں سے دور ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس صف میں شریک عورتیں شیطان کے وسوسوں اور فتنوں سے محفوظ رہتی ہیں۔

3؎:
یہ حکم اس صورت میں ہے جب مردوں،
عورتوں کی صفیں آگے پیچھے ہوں،
اگر عورتیں مردوں سے الگ نماز پڑھ رہی ہوں تو ان کی پہلی صف ہی بہتر ہو گی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 224]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1030
1030- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: مردوں کی سب سے زیادہ بہتر ان کی پہلی صف ہوتی ہے اور سب سے کم بہتر آخری ہوتی ہے۔ جبکہ خواتین کی سب سے زیادہ بہتر آخری ہوتی ہے اور سب سے کم بہتر پہلی ہوتی ہے۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1030]
فائدہ:
اس حدیث میں عورتوں کی بہترین صف آ خری صف کو کہا گیا ہے، اور مردوں کی بہترین صف پہلی صف کو کہا گیا ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خواتین مسجد میں باجماعت نماز ادا کر سکتی ہیں، امام کے پیچھے مردوں کی صفیں ہوں گی، پھر مردوں کے پیچھے عورتیں صفیں بنائیں گی۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1030]