یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. باب : الصلاة بين السواري في الصف
باب: ستونوں (کھمبوں) کے درمیان صف بندی کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1002
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ أَبُو طَالِبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ وَأَبُو قُتَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كُنَّا نُنْهَى أَنْ نَصُفَّ بَيْنَ السَّوَارِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنُطْرَدُ عَنْهَا طَرْدًا".
قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ستونوں کے درمیان صف بندی سے روکا جاتا تھا، اور سختی سے وہاں سے ہٹایا جاتا تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1002]
حضرت معاویہ بن قرہ اپنے والد (حضرت قرہ بن ایاس مزنی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ستونوں کے درمیان صف بنانے سے منع کیا جاتا تھا اور اس سے سختی کے ساتھ روکا جاتا تھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1002]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11085، ومصباح الزجاجة: 360) (حسن صحیح)» (سند میں ہارون بن مسلم مستور ہیں، اور ان سے تین ثقات نے روایت کی ہے، اس لئے اس سند کی شیخ البانی نے تحسین فرمائی ہے، اور شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 335، صحیح ابی داود: 677، و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 335)
وضاحت: ۱؎: ستونوں (کھمبوں) کے بیچ میں صف باندھنے سے منع کئے جاتے تھے کیونکہ ان کے بیچ میں حائل ہونے کی وجہ سے صف ٹوٹ جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة مدلس و عنعن
و حديث أبي داود (673) عن أنس: ’’كنا نتقي ھذا علي عهد رسول اللّٰه ﷺ ‘‘
سنده صحيح وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 413
إسناده ضعيف
قتادة مدلس و عنعن
و حديث أبي داود (673) عن أنس: ’’كنا نتقي ھذا علي عهد رسول اللّٰه ﷺ ‘‘
سنده صحيح وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 413
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1002
| كنا ننهى أن نصف بين السواري |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1002 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1002
اردو حاشہ:
فائدہ:
نماز باجماعت کے دوران میں اگر صف کے درمیان ستون حائل ہو تو صف ٹوٹ جاتی ہے۔
اس لئے اس سے منع کیا گیا ہے۔
اگر جماعت نہ ہو رہی ہو تو ستونوں کے درمیان کھڑا ہونا میں کوئی حرج نہیں کیونکہ اس وقت نمازیوں کا وہاں کھڑا ہونا صف نہیں کہلائےگا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ شریف کے اندردو ستونوں کے درمیان نماز ادا کری تھی۔
دیکھئے: (صحیح البخاري، الصلاۃ، باب الأبواب والغلق للکعبۃ والمساجد، حدیث: 468)
فائدہ:
نماز باجماعت کے دوران میں اگر صف کے درمیان ستون حائل ہو تو صف ٹوٹ جاتی ہے۔
اس لئے اس سے منع کیا گیا ہے۔
اگر جماعت نہ ہو رہی ہو تو ستونوں کے درمیان کھڑا ہونا میں کوئی حرج نہیں کیونکہ اس وقت نمازیوں کا وہاں کھڑا ہونا صف نہیں کہلائےگا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ شریف کے اندردو ستونوں کے درمیان نماز ادا کری تھی۔
دیکھئے: (صحیح البخاري، الصلاۃ، باب الأبواب والغلق للکعبۃ والمساجد، حدیث: 468)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1002]
Sunan Ibn Majah Hadith 1002 in Urdu
معاوية بن قرة المزني ← قرة بن إياس المزني