سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
83. باب : ما جاء في الزينة يوم الجمعة
باب: جمعہ کے دن زیب و زینت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1096
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَرَأَى عَلَيْهِمْ ثِيَابَ النِّمَارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدَ سَعَةً أَنْ يَتَّخِذَ ثَوْبَيْنِ لِجُمُعَتِهِ سِوَى ثَوْبَيْ مِهْنَتِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن خطبہ دیا، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دھاری دار چادریں پہنے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا مشکل ہے کہ تم میں سے جو صاحب وسعت ہو وہ جمعہ کے لیے اپنے عام کپڑے کے علاوہ دوسرے دو کپڑے بنا لے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1096]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16896 ومصباح الزجاجة: 388) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥زهير بن محمد التميمي، أبو المنذر زهير بن محمد التميمي ← هشام بن عروة الأسدي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عمرو بن أبي سلمة التنيسي، أبو حفص عمرو بن أبي سلمة التنيسي ← زهير بن محمد التميمي | صدوق له أوهام | |
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي ← عمرو بن أبي سلمة التنيسي | ثقة حافظ جليل |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1096
| ما على أحدكم إن وجد سعة أن يتخذ ثوبين لجمعته سوى ثوبي مهنته |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1096 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1096
اردو حاشہ: 1۔
روز مرہ کے کپڑے جن کو پہن کر محنت مزدوری کا کام کیاجاتا ہے۔
وہ ادنیٰ قسم کے ہوتے ہیں۔
جب کہ خاص موقعوں کےلئے بہتر کپڑے بنائے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ کام کے کپڑوں کی صفائی کا اس قدر اہتمام بھی نہیں کیاجاتا۔ 2۔
جمعے کےلئے الگ تیار کیے ہوئے صاف ستھرے اور عمدہ کپڑے پہننے سے معلوم ہوتا ہےکہ پہننے والے کی نظر میں اس عبادت کی زیادہ اہمیت ہے۔ 3۔
جمعہ مسلمانوں کاہفت روزہ تہوار ہے او ر عیدین سالانہ تہوار مسلمانوں کو چاہیے کہ غیر مسلموں کے تہواروں کواہمیت نہ دیں اور ان میں حصہ نہ لیں۔
بلکہ اسلامی تہواروں کو اہمیت دیں۔
جمعے میں عمدہ لباس پہننا اس اہمیت کا اعتراف اور اظہار ہے۔ 4۔
اگر کوئی شخص الگ لباس نہ بناسکے تو بھی کوئی حرج نہیں لیکن صفائی کا خاص خیال رکھناچاہیے۔
روز مرہ کے کپڑے جن کو پہن کر محنت مزدوری کا کام کیاجاتا ہے۔
وہ ادنیٰ قسم کے ہوتے ہیں۔
جب کہ خاص موقعوں کےلئے بہتر کپڑے بنائے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ کام کے کپڑوں کی صفائی کا اس قدر اہتمام بھی نہیں کیاجاتا۔ 2۔
جمعے کےلئے الگ تیار کیے ہوئے صاف ستھرے اور عمدہ کپڑے پہننے سے معلوم ہوتا ہےکہ پہننے والے کی نظر میں اس عبادت کی زیادہ اہمیت ہے۔ 3۔
جمعہ مسلمانوں کاہفت روزہ تہوار ہے او ر عیدین سالانہ تہوار مسلمانوں کو چاہیے کہ غیر مسلموں کے تہواروں کواہمیت نہ دیں اور ان میں حصہ نہ لیں۔
بلکہ اسلامی تہواروں کو اہمیت دیں۔
جمعے میں عمدہ لباس پہننا اس اہمیت کا اعتراف اور اظہار ہے۔ 4۔
اگر کوئی شخص الگ لباس نہ بناسکے تو بھی کوئی حرج نہیں لیکن صفائی کا خاص خیال رکھناچاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1096]
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق