سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
94. باب : ما جاء في الصلاة قبل الجمعة
باب: جمعہ سے پہلے کی سنتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1129
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ مُبَشِّرِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعُوفِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَرْكَعُ قَبْلَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا لَا يَفْصِلُ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے، اور درمیان میں فصل نہیں کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1129]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5983، ومصباح الزجاجة: 403) (ضعیف جدا)» (سند میں عطیہ ضعیف، حجاج مدلس، مبشر بن عبید کذاب اور بقیہ مدلس رواة ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده موضوع
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد مسلسل بالضعفاء: عطية (العوفي) متفق علي ضعفه وحجاج (بن أرطاة) مدلس
و مبشر بن عبيد: كذاب،وبقية ھو ابن الوليد يدلس بتدليس التسوية‘‘ بقية: صدوق مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 417
إسناده موضوع
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد مسلسل بالضعفاء: عطية (العوفي) متفق علي ضعفه وحجاج (بن أرطاة) مدلس
و مبشر بن عبيد: كذاب،وبقية ھو ابن الوليد يدلس بتدليس التسوية‘‘ بقية: صدوق مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 417
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥عطية بن سعد العوفي، أبو الحسن عطية بن سعد العوفي ← عبد الله بن العباس القرشي | ضعيف الحديث | |
👤←👥الحجاج بن أرطاة النخعي، أبو أرطاة الحجاج بن أرطاة النخعي ← عطية بن سعد العوفي | صدوق كثير الخطأ والتدليس | |
👤←👥مبشر بن عبيد القرشي، أبو حفص مبشر بن عبيد القرشي ← الحجاج بن أرطاة النخعي | متروك الحديث | |
👤←👥بقية بن الوليد الكلاعي، أبو يحمد بقية بن الوليد الكلاعي ← مبشر بن عبيد القرشي | صدوق كثير التدليس عن الضعفاء | |
👤←👥يزيد بن عبد ربه الجرجسي، أبو الفضل يزيد بن عبد ربه الجرجسي ← بقية بن الوليد الكلاعي | ثقة | |
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي ← يزيد بن عبد ربه الجرجسي | ثقة حافظ جليل |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1129
| يركع قبل الجمعة أربعا لا يفصل في شيء منهن |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1129 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1129
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت سنداً موضوع ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جمعے سے قبل رکعتوں کی کوئی تعین کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، نہ قول سے اورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل ہی سے، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پررونق افروز ہوجاتے تو اذان شروع ہوجاتی۔
اور اذان کے بعد آپ کسی وقفہ کے بغیر خطبہ شروع فرمادیتے۔
اور یہ کھلے مشاہدہ کی بات تھی علامہ عراقی فرماتے ہیں کہ کسی صحیح حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ منقول نہیں۔
کہ آپ جمعہ سے پہلے کسی مقررہ رکعتوں پرمشتمل نماز پڑھتے تھے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ اور دیگرمحقیقین علمائے اہل حدیث کی تحقیق یہی ہے کہ جمعہ سے قبل مقررہ تعداد میں سنن ونوافل ثابت نہیں۔
البتہ جو شخص امام کے خطبہ شروع کرنے سے پہلے مسجد میں پہنچ جائے وہ بلاتعین جتنی سنتیں اور نوافل پڑھنا چاہے۔
پڑھ لے۔
اور جونہی امام خطبہ شروع کرے نوافل پڑھنا بند کردے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے۔ (فتاویٰ ابن تیمیه: 200، 188/24 وزادالمعاد: 440، 432/1)
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت سنداً موضوع ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جمعے سے قبل رکعتوں کی کوئی تعین کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، نہ قول سے اورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل ہی سے، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پررونق افروز ہوجاتے تو اذان شروع ہوجاتی۔
اور اذان کے بعد آپ کسی وقفہ کے بغیر خطبہ شروع فرمادیتے۔
اور یہ کھلے مشاہدہ کی بات تھی علامہ عراقی فرماتے ہیں کہ کسی صحیح حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ منقول نہیں۔
کہ آپ جمعہ سے پہلے کسی مقررہ رکعتوں پرمشتمل نماز پڑھتے تھے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ اور دیگرمحقیقین علمائے اہل حدیث کی تحقیق یہی ہے کہ جمعہ سے قبل مقررہ تعداد میں سنن ونوافل ثابت نہیں۔
البتہ جو شخص امام کے خطبہ شروع کرنے سے پہلے مسجد میں پہنچ جائے وہ بلاتعین جتنی سنتیں اور نوافل پڑھنا چاہے۔
پڑھ لے۔
اور جونہی امام خطبہ شروع کرے نوافل پڑھنا بند کردے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے۔ (فتاویٰ ابن تیمیه: 200، 188/24 وزادالمعاد: 440، 432/1)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1129]
عطية بن سعد العوفي ← عبد الله بن العباس القرشي