سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
123. . باب : ما جاء في الوتر بثلاث وخمس وسبع وتسع
باب: وتر میں تین، پانچ، سات اور نو رکعات پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1192
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُوتِرُ بِسَبْعٍ أَوْ بِخَمْسٍ، لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِتَسْلِيمٍ وَلَا كَلَامٍ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سات یا پانچ رکعتیں وتر پڑھتے تھے، اور ان کے درمیان سلام اور کلام سے فصل نہیں کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1192]
حضرت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سات یا پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے، ان کے درمیان سلام یا کلام کے ساتھ تفریق نہیں کرتے تھے (ایک ہی سلام سے پڑھتے تھے)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1192]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/قیام اللیل 35 (1715)، (تحفةالأشراف: 18214)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الوتر 5 (457)، مسند احمد (6/290، 310، 321) (ضعیف)» (اس سند میں مقسم ہیں، اور ان کا سماع ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نہیں ہے، لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2961)
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1715
| يوتر بخمس وبسبع لا يفصل بينها بسلام ولا بكلام |
سنن ابن ماجه |
1192
| يوتر بسبع أو بخمس لا يفصل بينهن بتسليم ولا كلام |
Sunan Ibn Majah Hadith 1192 in Urdu
مقسم بن بجرة ← أم سلمة زوج النبي