یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب : كيف الوتر بخمس وذكر الاختلاف على الحكم في حديث الوتر
باب: پانچ رکعت وتر کیسے پڑھی جائے؟ اور وتر کی حدیث کے سلسلے میں حکم سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 1715
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِخَمْسٍ وَبِسَبْعٍ، لَا يَفْصِلُ بَيْنَهَا بِسَلَامٍ وَلَا بِكَلَامٍ".
منصور روایت کرتے ہیں حکم سے، اور وہ مقسم سے اور مقسم ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ یا سات رکعت وتر پڑھتے، اور ان کے درمیان آپ سلام کے ذریعہ فصل نہیں کرتے تھے اور نہ کلام کے ذریعہ۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1715]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ یا سات وتر پڑھتے تو درمیان میں نہ سلام پھیرتے تھے اور نہ کلام فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1715]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة 123 (1192)، (تحفة الأشراف: 18214)، مسند احمد 6/290، 310، 321 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1715
| يوتر بخمس وبسبع لا يفصل بينها بسلام ولا بكلام |
سنن ابن ماجه |
1192
| يوتر بسبع أو بخمس لا يفصل بينهن بتسليم ولا كلام |
Sunan an-Nasa'i Hadith 1715 in Urdu
مقسم بن بجرة ← أم سلمة زوج النبي