🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
138. . باب : ما جاء فيمن أحدث في الصلاة كيف ينصرف
باب: جس کو نماز میں حدث ہو جائے تو وہ مسجد سے کس حالت میں باہر جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1222
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عَبِيدَةَ بْنِ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَأَحْدَثَ، فَلْيُمْسِكْ عَلَى أَنْفِهِ، ثُمَّ لِيَنْصَرِفْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی شخص کو نماز میں حدث ہو جائے، تو اپنی ناک پکڑ لے اور چلا جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17129، ومصباح الزجاجة: 429)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 236 (1114) (صحیح)» ‏‏‏‏ (تراجع الألبانی: رقم: 32، صحیح ابی داود: 1020، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2976)
وضاحت: ۱؎: وضو کرنے کے لئے ناک پکڑنے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ اس سے لوگ سمجھیں کہ اس کی نکسیر پھوٹ گئی ہے، کیونکہ شرم کی بات ہے (ہوا خارج ہو جانے کی بات) کو چھپانا ہی بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
عمر بن علي المقدمي صرح بالسماع عند الدارقطني وتابعه غير واحد عند أبي داود (1114) وابن الجارود (222) والحاكم (1/ 184، 260)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥عمر بن علي المقدمي، أبو حفص، أبو جعفر
Newعمر بن علي المقدمي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة وكان يدلس كثيرا
👤←👥عمر بن أبي معاذ النميري، أبو زيد
Newعمر بن أبي معاذ النميري ← عمر بن علي المقدمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1114
إذا أحدث أحدكم في صلاته فليأخذ بأنفه ثم لينصرف
سنن ابن ماجه
1222
إذا صلى أحدكم فأحدث فليمسك على أنفه ثم لينصرف
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1222 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1222
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ناک پر ہاتھ رکھنے کا یہ فائدہ ہے۔
کہ دیکھنے والے یہ سمجھیں گے شاید نکسیر پھوٹی ہے۔
اس لئے نماز چھوڑ کرصف سے نکل گیا ہے۔
ورنہ صف سے نکلتے ہوئے شرم آئے گی۔
کیونکہ لوگ محسوس کریں گے کہ اس کی ہوا خارج ہوئی ہے۔

(2)
اس حدیث سے استدلال کیا جاسکتا ہے کہ خون کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
لیکن یہ استدلال قوی نہیں کیونکہ نکسیر والا آدمی خون بند کرنے کے لئے صف سے نکل کرجاتا ہے۔
کیونکہ سر پر پانی ڈالنے سے خون رک جائے گا۔
ضروری نہیں کہ وہ وضو کرے جیسا کہ زیادہ صحیح احادیث میں صراحت ہے۔
کہ جسم سے خون نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
امام مالک نے مؤطا میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت سعید بن مسیب اور حضرت سالم بن عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے۔
کہ یہ حضرات نکسیر پھوٹنے پردوبارہ وضو نہیں کیا کرتے تھے۔
مؤطا کی ایک روایت میں حضرت سعید بن مسیب سے وضو کرنا منقول ہے۔
لیکن اس سے وضو لغوی یعنی منہ ہاتھ دھونا مراد لیا جاسکتا ہے کیونکہ حضرت سعد بن مسیب سے وضو نہ کرنا بھی مروی ہے۔ (مؤطا إمام مالك، الطھارۃ، باب ماجاء فی الرعاف وباب العمل فی الرعاف، حدیث 49، 48، 47)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1222]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1114
جس کا وضو ٹوٹ جائے وہ امام سے باہر جانے کی اجازت لے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب حالت نماز میں تم میں سے کسی شخص کو حدث ہو جائے تو وہ اپنی ناک پکڑ کر چلا جائے ۱؎۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن سلمہ اور ابواسامہ نے ہشام سے ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، ان دونوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1114]
1114. اردو حاشیہ:
یعنی اس معاملے میں نماز اور خطبے کا معاملہ تقریبا ایک ہی ہے اور بے وضو ہو جانے کی صورت میں تقریباً ناک پر ہاتھ رکھ کر چلے جانا بیان عذر کی ایک علامت بتائی گئی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1114]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1222M
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی جیسی حدیث مرفوعاً آئی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1222M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفردبہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17129، ومصباح الز جاجة: 429/أ) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں عمر بن قیس ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ متابعت سے تقویت پاکر صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥عمر بن قيس المكي، أبو حفص، أبو جعفر
Newعمر بن قيس المكي ← هشام بن عروة الأسدي
متروك الحديث
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عمر بن قيس المكي
ثقة حافظ
👤←👥حرملة بن يحيى التجيبي، أبو حفص
Newحرملة بن يحيى التجيبي ← عبد الله بن وهب القرشي
صدوق حسن الحديث