علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
146. . باب : ما جاء في قتل الحية والعقرب في الصلاة
باب: دوران نماز سانپ اور بچھو مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1246
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الدَّهَّانُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَدَغَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقْرَبٌ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْعَقْرَبَ مَا تَدَعُ الْمُصَلِّيَ، وَغَيْرَ الْمُصَلِّي، اقْتُلُوهَا فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بچھو نے نماز میں ڈنک مار دیا، نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ بچھو پر لعنت کرے کہ وہ نمازی و غیر نمازی کسی کو نہیں چھوڑتا، اسے حرم اور حرم سے باہر، ہر جگہ میں مار ڈالو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1246]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16125، ومصباح الزجاجة: 436)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/250) (صحیح)» (اس کی سند میں حکم بن عبد الملک ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← سعيد بن المسيب القرشي | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥الحكم بن عبد الملك القرشي الحكم بن عبد الملك القرشي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ضعيف الحديث | |
👤←👥علي بن ثابت الكوفي علي بن ثابت الكوفي ← الحكم بن عبد الملك القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥العباس بن جعفر البغدادي، أبو محمد العباس بن جعفر البغدادي ← علي بن ثابت الكوفي | ثقة | |
👤←👥أحمد بن عثمان الأودي، أبو عبد الله أحمد بن عثمان الأودي ← العباس بن جعفر البغدادي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1246
| لعن الله العقرب ما تدع المصلي وغير المصلي اقتلوها في الحل والحرم |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1246 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1246
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حرم سے مراد و ہ علاقہ ہے۔
جس میں شکار کرنا درخت کاٹنا اور گھاس اکھاڑنا منع ہے۔
اس کے علاوہ پوری زمین حل ہے یعنی جہاں یہ پابندیاں نہیں۔
(2)
حرم کی حدود میں اگرچہ جانوروں کا شکار منع ہے۔
تاہم موذی جانوروں کو وہاں بھی قتل کیا جا سکتا ہے۔
(3)
بحیثیت انسان ہونے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی وہ تکالیف آتی تھیں۔
جو دوسرے انسانوں پر آتی ہیں۔
مثلا بیمار ہونا، زخمی ہونا، بھوک، پیاس کی حاجت پیش آنا، غمگین ہونا، خوش ہونا، بھول جاناوغیرہ۔
ان تمام حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال ہمارے لئے اسوہ ہیں۔
(4)
بُرے اور مجرم آدمی کو اس کے جرم اور گناہ کی نسبت سے لعنت کا لفظ بول دینا جائز ہے۔
جیسے قرآن مجید نے جھوٹ بولنے والے پر اور حدیث میں انبیاء اور اولیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنانے والے پر، غیر اللہ کے لئے جانور ذبح کرنے والےپر، والدین کو لعنت کرنے والے پر، بیوی سے خلاف وضع فطری کا ارتکاب کرنے والے اور متعدد دوسرے جرائم کے مرتکب پر لعنت وارد ہے۔
دیکھئے: (سورہ آل عمران، آیت: 61 وصحیح البخاري، الصلاۃ، باب: 55، حدیث: 436، 435)
فوائد و مسائل:
(1)
حرم سے مراد و ہ علاقہ ہے۔
جس میں شکار کرنا درخت کاٹنا اور گھاس اکھاڑنا منع ہے۔
اس کے علاوہ پوری زمین حل ہے یعنی جہاں یہ پابندیاں نہیں۔
(2)
حرم کی حدود میں اگرچہ جانوروں کا شکار منع ہے۔
تاہم موذی جانوروں کو وہاں بھی قتل کیا جا سکتا ہے۔
(3)
بحیثیت انسان ہونے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی وہ تکالیف آتی تھیں۔
جو دوسرے انسانوں پر آتی ہیں۔
مثلا بیمار ہونا، زخمی ہونا، بھوک، پیاس کی حاجت پیش آنا، غمگین ہونا، خوش ہونا، بھول جاناوغیرہ۔
ان تمام حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال ہمارے لئے اسوہ ہیں۔
(4)
بُرے اور مجرم آدمی کو اس کے جرم اور گناہ کی نسبت سے لعنت کا لفظ بول دینا جائز ہے۔
جیسے قرآن مجید نے جھوٹ بولنے والے پر اور حدیث میں انبیاء اور اولیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنانے والے پر، غیر اللہ کے لئے جانور ذبح کرنے والےپر، والدین کو لعنت کرنے والے پر، بیوی سے خلاف وضع فطری کا ارتکاب کرنے والے اور متعدد دوسرے جرائم کے مرتکب پر لعنت وارد ہے۔
دیکھئے: (سورہ آل عمران، آیت: 61 وصحیح البخاري، الصلاۃ، باب: 55، حدیث: 436، 435)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1246]
Sunan Ibn Majah Hadith 1246 in Urdu
سعيد بن المسيب القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق