🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
160. . باب : ما جاء في الصلاة قبل صلاة العيد وبعدها
باب: عید سے پہلے اور اس کے بعد نماز پڑھنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1293
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الرَّقِّيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا يُصَلِّي قَبْلَ الْعِيدِ شَيْئًا، فَإِذَا رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید سے پہلے کچھ بھی نہیں پڑھتے تھے، جب اپنے گھر واپس لوٹتے تو دو رکعت پڑھتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1293]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4187، ومصباح الزجاجة: 451)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/40) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن عقيل ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 422

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥عبد الله بن عقيل الهاشمي، أبو محمد
Newعبد الله بن عقيل الهاشمي ← عطاء بن يسار الهلالي
مقبول
👤←👥عبيد الله بن عمرو الأسدي، أبو وهب
Newعبيد الله بن عمرو الأسدي ← عبد الله بن عقيل الهاشمي
ثقة
👤←👥الهيثم بن جميل البغدادي، أبو سهل
Newالهيثم بن جميل البغدادي ← عبيد الله بن عمرو الأسدي
ثقة
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← الهيثم بن جميل البغدادي
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1293
لا يصلي قبل العيد شيئا فإذا رجع إلى منزله صلى ركعتين
بلوغ المرام
393
لا يصلي قبل العيد شيئا فإذا رجع إلى منزله صلى ركعتين
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1293 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1293
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین مثلاً امام حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
اورحافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ، امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ، شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ، شيخ حسین اسد اور الموسوعۃ الحدیثیہ کے محققین نے اسے حسن قراردیا ہے۔
علاوہ ازیں حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اس مسئلہ پر فتح الباری میں سیر حاصل بحث کی ہے اورسنن ابن ماجہ کی مذکورہ روایت کوحسن قرار دے کر دونوں قسم کی روایات میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ جن احادیث میں نفل وغیرہ نہ پڑھنے کا ذکر ہے۔
اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کی عید گاہ میں کوئی نوافل ادا نہیں کرتے تھے۔
گھر آ کر ادا کیے جانے والے نفلوں کا تعلق نماز عید سے نہیں بلکہ یہ مطلق نفل ہیں۔
واللہ أعلم۔
تفصیل کےلئے دیکھئے: (فتح الباري: 614، 613/2 والموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد بن حنبل: 326، 325، 324/17، وسنن ابن ماجة للدکتور بشار عواد، حدیث: 1293)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1293]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 393
نماز عیدین کا بیان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید سے پہلے کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے۔ البتہ جب واپس گھر تشریف لے آتے تو دو رکعت نماز نفل ادا فرماتے۔
اسے ابن ماجہ نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 393»
تخریج:
«أخرجه ابن ماجه، إقامة الصلوات، باب ما جاء في الصلاة قبل صلاة العيد وبعدها، حديث:1293.* ابن عقيل ضعيف ضعفه الجمهور علي الراجح.»
تشریح:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح اور حسن قرار دیا ہے۔
علاوہ ازیں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس مسئلے کی بابت فتح الباری میں سیر حاصل بحث کی ہے اور سنن ابن ماجہ کی مذکورہ روایت کو حسن قرار دے کر دونوں قسم کی روایات میں تطبیق دی ہے کہ جن احادیث میں نفل وغیرہ نہ پڑھنے کا ذکر ہے‘ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ عیدگاہ میں کوئی نوافل ادا نہیں کرتے تھے۔
گھر آکر ادا کیے جانے والے نفلوں کا تعلق نماز عید سے نہیں بلکہ یہ مطلق نفل ہیں‘ لہٰذا معلوم ہوا کہ عید کے دن نماز عید کے علاوہ عید گاہ میں کوئی نماز نہیں‘ البتہ گھر میں نماز عید کے بعد دو رکعت نماز ادا کی جا سکتی ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (فتح الباري:۲ / ۶۱۳‘ ۶۱۴‘ والموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۱۷ / ۳۲۴. ۳۲۶‘ وسنن ابن ماجہ بتحقیق الدکتور بشار عواد‘ حدیث:۱۲۹۳)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 393]