🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب في صيام يوم الجمعة
باب: جمعہ کے دن کا روزہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1724
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَنَا أَطُوفُ بِالْبَيْتِ، أَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟، قَالَ:" نَعَمْ، وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ".
محمد بن عباد بن جعفر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خانہ کعبہ کے طواف کے دوران پوچھا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں، اس گھر کے رب کی قسم!۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1724]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 63 (1984)، صحیح مسلم/الصوم 24 (1143)، (تحفة الأشراف: 2586)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/296، 312)، سنن الدارمی/الصوم 39 (1789) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن عباد المخزومي
Newمحمد بن عباد المخزومي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الحميد بن جبير القرشي
Newعبد الحميد بن جبير القرشي ← محمد بن عباد المخزومي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عبد الحميد بن جبير القرشي
ثقة حافظ حجة
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← سفيان بن عيينة الهلالي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1984
نهى النبي عن صوم يوم الجمعة
صحيح مسلم
2681
أنهى رسول الله عن صيام يوم الجمعة فقال نعم
سنن ابن ماجه
1724
أنهى النبي عن صيام يوم الجمعة قال نعم
المعجم الصغير للطبراني
388
يوم الجمعة لا يصام وحده
مسندالحميدي
1260
نعم، ورب هذا البيت
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1724 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1724
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
طواف کعبہ کے دوران میں بات چیت کرنا جائز ہے۔
تاہم فضول بات چیت سے اجتناب کرتے ہوئے دعا وذکر میں مشغول رہنا افضل ہے۔

(2)
اللہ کی مخلوق کی قسم کھانا حرام ہے۔
لیکن اللہ کا ذکر اس کی کسی صفت کے ساتھ ہو تو کوئی حرج نہیں۔
اس لئے کعبہ کی قسم کھانے کی بجائے کعبہ کے رب کی قسم کھانی چاہیے۔

(3)
کسی بات کی تاکید کے لئے قسم کھانا جائز ہے۔
لیکن بلا ضرورت کثرت سے قسمیں کھانا اچھا نہیں اور جھوٹی قسم تو بہت بڑا گناہ ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1724]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1260
1260-محمد بن عباد بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: وہ اس وقت بیت اللہ کا طواف کررہے تھے کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اس گھر کے پروردگار کی قسم! جی ہاں۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1260]
فائدہ:
اس حدیث میں جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی حرمت کا بیان ہے۔ طواف کے دوران اہم دینی باتیں کی جاسکتی ہیں، جس بات کا علم نہ ہو اس کا علماء سے سوال کر لینا چاہیے۔ مسئلہ بتاتے وقت قسم کھانا جائز ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1258]