🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. باب في المرأة تصوم بغير إذن زوجها
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت نفلی روزہ رکھے تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1762
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ أَنْ يَصُمْنَ إِلَّا بِإِذْنِ أَزْوَاجِهِنَّ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو منع فرمایا کہ وہ اپنے شوہروں کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ رکھیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1762]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: 4020، ومصباح الزجاجة: 633)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم 74 (2459)، مسند احمد (3/80، 84)، سنن الدارمی/الصوم 20 (1760) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2459)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 443

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو سعيد الخدري
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← أبو صالح السمان
ثقة حافظ
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن حماد الشيباني، أبو محمد، أبو زكريا، أبو بكر
Newيحيى بن حماد الشيباني ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
ثقة
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← يحيى بن حماد الشيباني
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2459
لا تصوم امرأة إلا بإذن زوجها إذا استيقظت فصل
سنن ابن ماجه
1762
نهى رسول الله النساء أن يصمن إلا بإذن أزواجهن
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1762 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1762
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ہمارے فا ضل محقق اس روایت کی با بت لکھتے ہیں کہ یہ سنداً تو ضعیف ہے لیکن گزشتہ روایت اس کی شا ہد ہے جو کہ صحیح ہے علا وہ ازیں دیگر محققین نے شواہد کی بنا پر اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لئےدیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 283، 282/18، وسنن ابن ماجة للدکتور بشار عواد، حدیث: 1762)
 لہٰذا مذکورہ روایت میں بیان کردہ مسئلہ دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔

(2)
فرض کی ادائیگی کے لئے کسی سے اجا زت لینے کی ضرورت نہیں
(3)
نفلی روزے رکھنے میں چو نکہ خا وند کا حق متاثر ہونے کا اندیشہ ہے خصوصا جب کے عورت کثرت سے نفلی روزے رکھے اس لئے نفلی روزے میں عورت کو چاہیے کہ خا وند سے اجازت لے لے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1762]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2459
شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے (نفل) روزے رکھنے کے حکم کا بیان۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، ہم آپ کے پاس تھے، کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرے شوہر صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ جب نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتے ہیں، اور روزہ رکھتی ہوں تو روزہ تڑوا دیتے ہیں، اور فجر سورج نکلنے سے پہلے نہیں پڑھتے۔ صفوان اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان باتوں کے متعلق پوچھا جو ان کی بیوی نے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا یہ الزام کہ نماز پڑھنے پر میں اسے مارتا ہوں تو بات ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2459]
فوائد ومسائل:
(1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت و تزکیہ سے مردوں کے علاوہ خواتین بھی بہرہ ور تھیں اور ان میں آخرت کی رغبت اس قدر بڑھ گئی تھی کہ اس طرح کی شکایت سامنے آئی جو اس حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
حیف ہے ان لوگوں پر جو اس طرح کی مقدس ہستیوں کے ایمان کو مشکوک گردانتے ہیں۔

(2) شوہر کو حق ہے کہ بلا تخصیص وقت اپنی بیوی سے تمتع کرے، گویا حقوق تمتع اس کی ملک ہیں، بیوی کسی طرح انکار نہیں کر سکتی الا یہ کہ عذر شرعی اور معقول ہو، بلکہ انکار پر مناسب سزا بھی مباح ہے۔

(3) بعد از فاتحہ مختصر قراءت سے بھی نماز کامل ہوتی ہے۔

(4) عورت کو اس قدر لمبی نماز نہیں پڑھنی چاہیے کہ شوہر اس کے انتظار میں پیچ و تاب کھاتا رہے۔

(5) بیوی کو نفلی روزے شوہر کی اجازت کے بغیر نہیں رکھنے چاہئیں۔
بعض اوقات یہ اجازت میلان طبع سے بھی سمجھی جا سکتی ہے۔

(6) جناب صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابہ میں سے تھے۔
ان کا ذکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق واقعہ افک میں بھی آتا ہے۔
ان کا سورج چڑھنے نماز پڑھنا تو واقعتا بعد از طلوع ہوتا تھا یا مراد ہے کہ بالکل آخری وقت میں پڑھتے تھے کہ سورج نکلنے والا ہوتا۔
اور اس کا سبب انہوں نے بیان کیا ہے کہ یہ گویا خاندانی عادت سی تھی کہ یہ لوگ نیند کے متوالے تھے اگر کوئی جگانے والا نہ ہوتا تو ازخود جاگ نہ سکتے تھے۔
ایک عذر یہ بھی بیان ہوا کہ یہ لوگ رات کو دیر تک پانی ڈھوتے تھے اور دیر سے سونے کی وجہ سے صبح بروقت جاگ نہ سکتے تھے۔
بہرحال اگر عذر معقول ہو تو شرعا قبول ہے کہ سونے والے پر مواخذہ نہیں، ایسی صورت میں جب جاگ آئے فورا نماز پڑھ لے۔
اس سے صبح دیر سے اٹھ کر نماز پڑھنے کے معمول کو جواز بنانے پر استدلال نہیں کیا جا سکتا، اس لیے حضرت صفوان رضی اللہ عنہ کو یہ اجازت تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی، جن کو اس قسم کی صورت حال میں بذریعہ وحی مطلع کر دیا جاتا تھا۔
اس لیے حضرت صفوان کا عذر تو معقول سمجھ لیا گیا، لیکن ہم اپنے تساہل کو بھی اسی طرح کا معقول عذر سمجھ لیں، تو اس میں کوئی معقولیت نہیں ہو گی۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2459]