🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب : صدقة الزروع والثمار
باب: غلوں اور پھلوں کی زکاۃ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1816
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى أَبُو مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ، وَالْعُيُونُ الْعُشْرُ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو غلہ بارش یا چشمہ کے پانی سے پیدا ہوتا ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ کا ہے، اور جو غلہ پانی سینچ کر پیدا ہو اس میں بیسواں حصہ زکاۃ ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1816]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کھیتیاں بارش اور چشموں سے سیراب ہوں، ان میں سے دسواں حصہ ہے اور جسے پانی کھینچ کر دیا جائے، اس میں بیسواں حصہ (زکاۃ) ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1816]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الزکاة 14 (639)، (تحفة الأشراف: 12208، 13483) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اوپر کی حدیث میں آیا ہے کہ زکاۃ پانچ چیزوں میں ہے: گیہوں، جو، کھجور، انگور اور مکئی، اس میں مزید آسانی یہ ہے کہ یہ (عشر اور نصف عشر) دسواں اور بیسواں حصہ بھی صرف انہیں پانچ چیزوں سے لیا جائے گا جن کا ذکر اوپر ہوا، باقی تمام غلے اور میوہ جات،پھل پھول اور سبزیاں و ترکاریاں وغیرہ وغیرہ میں زکاۃ معاف ہے، اور ایک شرط یہ بھی ہے یہ پانچ چیزیں بھی پانچ وسق یعنی (۷۵۰) کلو گرام اور بقول شیخ عبداللہ البسام (۹۰۰ کلو گرام) سے کم نہ ہوں، ورنہ ان میں بھی زکاۃ معاف ہو گی، لیکن امام ابوحنیفہ اس حدیث سے یہ دلیل لیتے ہیں کہ جملہ پیداوار میں دسواں اور بیسواں حصہ ہے کیونکہ «ماسقت السماء» کا لفظ عام ہے، علامہ ابن القیم فرماتے ہیں: احادیث میں تطبیق دینا ضروری ہے اور جب غور سے دیکھو تو کوئی تعارض نہیں ہے، اس حدیث میں مقصود یہ ہے کہ بارش سے ہونے والی زراعت (کھیتی) میں دسواں حصہ ہے، کنویں اور نہر سے سینچی جانے والی زراعت میں بیسواں حصہ، (اس لیے کہ اس میں آدمی کو پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے اور محنت بھی) لیکن اس میں اموال زکاۃ اور مقدار نصاب کی تصریح نہیں ہے، یہ تصریح دوسری احادیث میں وارد ہے کہ زکاۃ صرف پانچ چیزوں میں ہے اور پانچ وسق سے کم میں زکاۃ نہیں ہے تو یہ عام اسی خاص پر محمول ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥بسر بن سعيد الحضرمي
Newبسر بن سعيد الحضرمي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥سليمان بن يسار الهلالي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو أيوب
Newسليمان بن يسار الهلالي ← بسر بن سعيد الحضرمي
ثقة
👤←👥الحارث بن أبي ذباب الدوسي
Newالحارث بن أبي ذباب الدوسي ← سليمان بن يسار الهلالي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عاصم بن عبد العزيز الأشجعي، أبو عبد الرحمن، أبو عبد العزيز
Newعاصم بن عبد العزيز الأشجعي ← الحارث بن أبي ذباب الدوسي
صدوق يهم
👤←👥إسحاق بن موسى الأنصاري، أبو موسى
Newإسحاق بن موسى الأنصاري ← عاصم بن عبد العزيز الأشجعي
ثقة متقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
639
فيما سقت السماء والعيون العشر فيما سقي بالنضح نصف العشر
سنن ابن ماجه
1816
فيما سقت السماء والعيون العشر فيما سقي بالنضح نصف العشر
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1816 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1816
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بارانی زمین سے حاصل ہونے والی پیداوار میں زکاۃ کی مقدار دسواں حصہ ہے۔
اگر بیس من غلہ حاصل ہو تو اس میں سے دو من زکاۃ ادا کی جائے۔
بیس من سے زیادہ ہو تو اسی شرح سے زکاۃ ادا کی جائے گی۔
قدرتی چشموں اور ندی نالوں وغیرہ سے سیراب ہونے والی زمین کی پیداوار کا بھی یہی حکم ہے۔
دریا کے قریب اگنے والی فصل کو بھی آب پاشی کی ضرورت نہیں ہوتی، اس کی جڑیں زمین سے اپنی ضروریات کا پانی لے لیتی ہیں۔
اس میں بھی دسواں حصہ زکاۃ ہے۔
کنویں اور ٹیوب ویل سے سیراب ہونے والی فصل میں زکاۃ کی مقدار بیسواں حصہ ہے۔
ہمارے ہاں نہری پانی کی بھی قیمت ادا کی جاتی ہے جسے آبیانہ کہتے ہیں اس لیے نہری زمین کی پیداوار میں بھی بیسواں حصہ زکاۃ ہے یعنی بیس من پر ایک من زکاۃ ہو گی۔
بیس من کی مقدار تقریباً ساڑھے سات سو کلو ہے۔
زمین کی پیداوار کی زکاۃ (عشر)
کی ادائیگی فصل کی کٹائی کے موقع پر ہو گی۔
اگر سال میں دو فصلیں ہوں گی تو عشر بھی دو مرتبہ ادا کرنا ضروری ہو گا کیونکہ اس میں سال گزرنے کی شرط نہیں ہے بلکہ فصل کا ہونا شرط ہے، وہ جب بھی ہو اور جو بھی ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1816]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 639
نہر وغیرہ سے سینچائی کر کے پیدا کی گئی فصل کی زکاۃ کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس فصل کی سینچائی بارش یا نہر کے پانی سے کی گئی ہو، اس میں زکاۃ دسواں حصہ ہے، اور جس کی سینچائی ڈول سے کھینچ کر کی گئی ہو تو اس میں زکاۃ دسویں حصے کا آدھا یعنی بیسواں حصہ ۱؎ ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 639]
اردو حاشہ:
1؎:
اس میں بالاتفاق حَوَلَانُ الْحَوْل (سال کا پورا ہونا) شرط نہیں،
البتہ نصاب شرط ہے یا نہیں جمہور آئمہ عشر یا نصف عشر کے لیے نصاب کو شرط مانتے ہیں،
جب تک پانچ وسق نہ ہو عشر یا نصف عشر واجب نہیں ہو گا،
اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک نصاب شرط نہیں،
وہ کہتے ہیں:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَنفِقُواْ مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الأَرْضِ وَلاَ تَيَمَّمُواْ الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِآخِذِيهِ إِلاَّ أَن تُغْمِضُواْ فِيهِ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ﴾ [البقرة: 267] (اے ایمان والو!اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اورزمین میں سے تمہارے لیے ہماری نکالی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرو،
ان میں سے بری چیزوں کے خرچ کر نے کا قصد نہ کرنا،
جسے تم خودلینے والے نہیں ہو،
ہاں اگرآنکھیں بندکرلو تو،
اور جان لو اللہ تعالیٰ بے پرواہ اور خوبیوں والا ہے)
﴿مِمَّا أَخْرَجْنَا﴾ میں ما کلمہء عموم ہے اس طرح ((فِيمَا سَقَتْ السَّمَاءُ وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ)) میں بھیما کلمہء عموم ہے۔

2؎:
اور جو آگے آ رہی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 639]

Sunan Ibn Majah Hadith 1816 in Urdu