🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب : من سأل عن ظهر غنى
باب: مالدار ہوتے ہوئے (بلا ضرورت) مانگنے پر وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1839
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ و خیرات کسی مالدار یا ہٹے کٹے صحت مند آدمی کے لیے حلال نہیں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1839]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزکاة 90 (2598)، (تحفة الأشراف: 12910)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/377، 389) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سالم بن أبي الجعد الأشجعي
Newسالم بن أبي الجعد الأشجعي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥عثمان بن عاصم الأسدي، أبو الحصين
Newعثمان بن عاصم الأسدي ← سالم بن أبي الجعد الأشجعي
ثقة ثبت سنى
👤←👥أبو بكر بن عياش الأسدي، أبو بكر
Newأبو بكر بن عياش الأسدي ← عثمان بن عاصم الأسدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن الصباح الجرجرائي، أبو جعفر
Newمحمد بن الصباح الجرجرائي ← أبو بكر بن عياش الأسدي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2598
لا تحل الصدقة لغني ولا لذي مرة سوي
سنن ابن ماجه
1839
لا تحل الصدقة لغني ولا لذي مرة سوي
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1839 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1839
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مال دار سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس اتنا کچھ موجود ہو کہ اس کا گزر ہو سکے۔
تعیشات کے حصول کے لیے اگر گنجائش نہیں تو اسے مفلس یا زکاۃ کا مستحق قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔

(2)
طاقت ور سے مراد وہ شخص ہے جو حلال طریقے سے محنت مزدوری یا کسی قسم کی ملازمت وغیرہ کے ذریعے سے روزی کما سکتا ہے۔
ایسا شخص اگر بے کار بیٹھا رہے اور کام کرنے کی کوشش نہ کرے تو یہ اس کی غلطی ہے۔

(3)
تندرست سے مراد وہ شخص ہے جس کو جسمانی طور پر اس قسم کی معذوری لاحق نہیں کہ وہ روزی کمانے کے قابل نہ رہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1839]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2598
جس شخص کے پاس درہم نہ ہو اس کے برابر سامان ہو۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کسی مالدار، طاقتور اور صحیح سالم شخص کے لیے درست نہیں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2598]
اردو حاشہ:
طاقت ور سے مراد وہ ہے جو کمائی کر سکے، نہ کہ پہلوان۔ اور تندرست سے مراد ہے کہ اس کے ہاتھ پاؤں صحیح ہوں، معذور نہ ہو، البتہ ایسا شخص اگر باوجود محنت کے فقیر ہو تو وہ مستحق ہوگا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ ہے کہ زکاۃ نکھٹوؤں کے لیے جائز نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2598]