🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب : النهي عن إتيان النساء في أدبارهن
باب: عورتوں سے دبر میں جماع کرنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1924
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هَرَمِيٍّ ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ".
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ حق بات سے شرم نہیں کرتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ تین بار فرمایا، اور فرمایا: عورتوں کی دبر میں جماع نہ کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1924]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الاشراف: 3530، ومصباح الزجاجة: 685)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/213، 217)، سنن الدارمی/الطہارة 114 (1183) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں حجاج بن أرطاہ مدلس و ضعیف ہیں، عنعنہ سے روایت کی ہے، اور عبداللہ بن ہرمی یا ہرمی بن عبد اللہ مستور ہیں، لیکن متابعت اور شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 2005)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥خزيمة بن ثابت الأنصاري، أبو عمارةصحابي
👤←👥هرمي بن عمرو الخطمي
Newهرمي بن عمرو الخطمي ← خزيمة بن ثابت الأنصاري
مختلف في صحبته
👤←👥عمرو بن شعيب القرشي، أبو إبراهيم، أبو عبد الله
Newعمرو بن شعيب القرشي ← هرمي بن عمرو الخطمي
ثقة
👤←👥الحجاج بن أرطاة النخعي، أبو أرطاة
Newالحجاج بن أرطاة النخعي ← عمرو بن شعيب القرشي
صدوق كثير الخطأ والتدليس
👤←👥عبد الواحد بن زياد العبدي، أبو بشر
Newعبد الواحد بن زياد العبدي ← الحجاج بن أرطاة النخعي
ثقة
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله
Newأحمد بن عبدة الضبي ← عبد الواحد بن زياد العبدي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1924
الله لا يستحيي من الحق لا تأتوا النساء في أدبارهن
مسندالحميدي
440
إن الله لا يستحي من الحق لا تأتوا النساء في أدبارهن
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1924 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1924
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جن مسائل کا تعلق اعضائے مستورہ سے ہے، اکثر ان کو بیان کرنے میں شرم محسوس ہوتی ہے لیکن انہیں بیان کرنا بھی ضروری ہے، البتہ الفاظ کا انتخاب مناسب ہونا چاہیے اور نابالغ بچوں کے سامنے بیان نہ کیے جائیں۔
بہتر یہ ہے کہ درس اور تقریر وغیرہ میں یہ مسائل اشارتاً بیان کیے جائیں اور پروائیویٹ مجلس میں مناسب انداز سے صراحت کر دی جائے۔

(2)
دبر نجاست کی جگہ ہے اس لیے مومن اس سے اجتناب کرتا ہے۔
ویسے بھی یہ مقام اس مقصد کے لیے نہیں بنایا گیا اور طبی طور پر اس کے بہت سے نقصانات ہیں۔
جن میں ایک نقصان حال ہی میں ایڈز کی بیماری کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
جائز مقام (قبل)
بھی نجاست کے ایام میں ممنوع ہو جاتا ہے تو جو مقام (دبر)
نجاست ہی کے لیے ہے وہ کب جائز ہو سکتا ہے۔

(3)
مرد کا مرد سے یا عورت کا عورت سے جنسی تعلق بہت بڑا گناہ ہے۔
جنسی لواطت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط کی پوری قوم پر پتھر برسا کراور ان لوگوں کی بستیاں الٹ کر انہیں تباہ کر دیا تھا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1924]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:440
440- عمارہ بن خزیمہ اپنے والد (سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: بے شک اللہ تعالیٰ حق بات سے حیا نہیں کرتا ہے، تم لوگ خواتین کی پچھلی شرمگاہوں میں صحبت نہ کرو۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:440]
فائدہ:
عورت کی دبر میں وطی کرنا منع اور کبیرہ گناہ ہے، صرف اس جگہ وطی کرنا ثواب ہے جو بچوں کی پیدائش کا محل ہے، اور حالت حیض و نفاس میں بھی بیوی سے جماع کرنا منع ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 440]