🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب : النهي عن إتيان النساء في أدبارهن
باب: عورتوں سے دبر میں جماع کرنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1923
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ مُخَلَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى رَجُلٍ جَامَعَ امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا جو اپنی عورت سے اس کے دبر (پچھلی شرمگاہ) میں جماع کرے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1923]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس مرد کی طرف نظر نہیں فرمائے گا، جو اپنی بیوی سے دُبر میں مجامعت کرتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1923]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12237، ومصباح الزجاجة: 684)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح 46 (2162)، مسند احمد (2/272، 344، 444، 479)، سنن الدارمی/الطہارة 113 (1176) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت سے دبر میں جماع کرنا لواطت صغری ہے اور اس باب میں کئی حدیثیں ہیں جو ایک دوسرے کو قوی کرتی ہیں، اور ائمہ اربعہ اور تمام علماء حدیث نے اس کی حرمت پر اتفاق کیا، اس لئے کہ اللہ تعالی فرماتا: «فَأْتُواْ حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ» (سورة البقرة: 223) اور «حرث» کہتے ہیں کھیتی کو یعنی جہاں سے پیدا ہو وہ کھیتی ہے، اور وہ قبل ہے اور دبر «فرث» ہے یعنی نجاست۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥الحارث بن مخلد الأنصاري
Newالحارث بن مخلد الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي
مقبول
👤←👥سهيل بن أبي صالح السمان، أبو يزيد
Newسهيل بن أبي صالح السمان ← الحارث بن مخلد الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن المختار الأنصاري، أبو إسحاق، أبو إسماعيل
Newعبد العزيز بن المختار الأنصاري ← سهيل بن أبي صالح السمان
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الملك البصري، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الملك البصري ← عبد العزيز بن المختار الأنصاري
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
135
من أتى حائضا امرأة في دبرها كاهنا فقد كفر بما أنزل على محمد
سنن أبي داود
2162
ملعون من أتى امرأته في دبرها
سنن ابن ماجه
1923
لا ينظر الله إلى رجل جامع امرأته في دبرها
سنن ابن ماجه
639
من أتى حائضا امرأة في دبرها كاهنا فصدقه بما يقول فقد كفر بما أنزل على محمد
بلوغ المرام
867
ملعون من أتى امرأة في دبرها
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1923 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1923
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُ‌وجِهِمْحَافِظُونَ ﴿5﴾ إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ‌ مَلُومِينَ﴾ (المومنون: 5، 6)
اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
سوائے اپنی بیویوں یا ان (کنیزوں)
کے جن کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ تو بلا شبہ (ان کی بابت)
ان پر کوئی ملامت نہیں۔
اس سے بعض لوگوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ عورتوں سے جس طرح چاہیں لطف اندوز ہو سکتے ہیں، خواہ آگے کی جگہ ہو یا پیچھے کی جگہ لیکن یہ بات صحیح نہیں بلکہ جماع کے لیے ایک ہی مقام جائز ہے، ایام حیض میں وہ بھی جائز نہیں رہتا۔

(2)
اللہ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔
اس کا مطلب ہے رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا اور قیامت کے دن اس کا یہ جرم معاف نہیں کرے گا۔
اس سے اس فعل کی حرمت ظاہر ہوتی ہے۔
دوسری حدیث میں اس فعل کا ارتکاب کرنے والے پر لعنت بھی وارد ہے۔
ارشاد نبوی ہے:
جو شخص بیوی سے دبر میں مجامعت کرتا ہے، وہ ملعون ہے۔ (سنن ابی داؤد، النکاح، باب فی جامع النکاح، حدیث: 2162)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1923]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث639
حائضہ عورت سے جماع منع ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حائضہ کے پاس آئے (یعنی اس سے جماع کرے) یا عورت کے پچھلے حصے میں جماع کرے، یا کاہن کے پاس جائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کرے، تو اس نے ان چیزوں کا انکار کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 639]
اردو حاشہ:
(1)
اس حدیث میں جن کاموں سے منع کیا گیا ہے وہ سب حرام ہیں۔

(2)
ان اعمال کے مرتکب افراد کو شریعت اسلامی کے ساتھ کفر کرنے والے قرار دیا گیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کافروں کے کام ہیں مسلمانوں کو ایسے کاموں سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔

(3)
اللہ نے عورت سے مباشرت کا ایک فطری طریقہ مقرر کیا ہے جس کے نتیجے میں اولاد پیدا ہوتی ہے۔
پاخانے (دبر)
کا راستہ اس مقصد کے لیے نہیں بنایا گیا ہے یہ غیر فطری طریقہ ہے جس میں حضرت لوط علیہ السلام کی بدکردار قوم سے مشابہت پائی جاتی ہے۔

(4)
بعض لوگوں نے عورتوں سے خلاف فطرت فعل کو جائز قرار دینے کی کوشش کی ہے۔
اس کے لیے اس آیت سے استدلال کیا ہے:
﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ﴾ (البقرۃ: 2؍223)
تمھاری عورتیں تمھارے لیے کھیتی (کی طرح)
ہیں تم اپنی کھیتی میں آؤ جیسے چاہو۔
ان کا یہ استدلال درست نہیں کیونکہ
(ا)
عورت کو کھیتی سے تشبیہ دی گئی ہے۔
کھیت وہی ہوتا ہے جہاں بیج ڈالا جائے تو اگے، پاخانے کا راستہ اس قابل نہیں۔
پیدائش کا تعلق اگلے راستے سے ہی ہے۔

(ب)
ایام حیض میں آگے کے راستے سے بھی پر ہیز کا حکم دیا گیا ہےاور وجہ یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ وہ نجاست ہے۔
دوسرا راستہ تو صرف نجاست ہی کے لیے ہے وہ کیسے حلال ہوسکتا ہے۔

(ج)
اگر ﴿أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ﴾ کا ترجمہ جہاں سے چاہو کیا جائے تو بھی اسکا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص پیچھے کے رخ سے ہو کر آگے کے مقام میں دخول کرے تو جائز ہے جس طرح براہ راست آگے کے رخ سے دخول جائز ہے جیسے کہ حدیث میں اسکی وضاحت ہے۔ دیکھیے: (صحيح مسلم، النكاح، باب جواز جماعة امرأته في قبلها، من قدامها ومن ورائها، من غير تعرض للدبر، حديث: 1435)

کاہن اس شخص کو کہتے ہیں جو غیب کی باتیں جاننے کا دعوی رکھتا ہے یا مستقبل کے بارے میں بتاتا ہے۔
ہمارے ہاں جو نجوم، رمل، جفر کے نام سے قسمت بتانے کا دعوی کرتے ہیں وہ سب اس وعید میں شامل ہیں۔
ان کی بتائی ہوئی کوئی بات سچ ثابت ہوجائے تو بھی ان لوگوں پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کے پاس جاکر کچھ پوچھنا ہی گناہ ہے اگرچہ ان کی بتائی ہوئی بات پر یقین نہ کرے۔
ارشاد نبوی ہے:
جو کسی کاہن کے پاس گیا اور اس سے کوئی بات پوچھی تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ (صحیح مسلم، السلام، باب تحریم الکھانة واتیان الکھان، حدیث: 2230)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 639]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 135
حائضہ سے جماع کے جائز نہ ہونے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی حائضہ کے پاس آیا یعنی اس سے جماع کیا یا کسی عورت کے پاس پیچھے کے راستے سے آیا، یا کسی کاہن نجومی کے پاس (غیب کا حال جاننے کے لیے) آیا تو اس نے ان چیزوں کا انکار کیا جو محمد (صلی الله علیہ وسلم) پر نازل کی گئی ہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 135]
اردو حاشہ:
1؎:
آپ کا یہ فرمانا تغلیظاً ہے جیسا کہ خود امام ترمذی نے اس کی وضاحت کردی ہے۔
نوٹ:
(سند میں حکیم الأثرم میں کچھ ضعف ہے،
تعدد طرق کی وجہ سے یہ حدیث صحیح ہے،
الإرواء: 2006)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 135]

حافظ عمران ایوب لاہوری حفظ اللہ، فوائد و مسال، سنن ترمذی135
«وَلَا تُرْطَا حَتَّى تَغْتَسِلَ بَعْدَ الظُّهْرِ»
اور نہ ہی حالت طہر میں آنے کے بعد غسل تک اس سے ہم بستری کی جا سکتی ہے۔ ۱؎
۱؎ ➊ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ «وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءِ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللهُ» [البقرة: 222]
لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے متعلق سوال کرتے ہیں، تو کہہ دیجیے کہ وہ گندگی ہے لٰہذا تم حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ (حیض سے) پاک نہ ہو جائیں ان کے قریب مت جاؤ، ہاں جب وہ (غسل کر کے) پاکیزگی حاصل کر لیں تو جہاں سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں اجازت دی ہے ان کے پاس جاؤ۔
➋ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ومن أتى حائضا أو امرأة فى دبرها أو كاهنا فقد كفر بما أنزل على محمد» جس نے حائضہ عورت سے مباشرت و ہم بستری کی یا کسی عورت کی پشت میں دخول کیا یا کاہن کے پاس آیا (اور اس کی تصدیق کی) تو اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ تعلیمات کا کفر کر دیا۔
[صحيح: صحيح ترمذي 116، كتاب الطهارة: باب ما جاء فى كراهية إتيان الحائض، ترمذي 135، أحمد 408/2، أبو داود 3904، ابن ماجة 639، دارمي 259/1]
➌ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ عورت کے متعلق ارشاد فرمایا کہ «اصنعوا كل شيئ إلا النكاح» نکاح (یعنی جماع) کے علاوہ (حائضہ عورت سے) سب کچھ کرو۔
[مسلم 302، كتاب الحيض: باب جواز غسل الحائض رأس زوجها و ترحيله......، أحمد 132/3، دارمي 245/1، أبو داود 258، ترمذي 2977، نسائي 187/1، ابن ماجة 644، بيهقي 313/1، ابن حبان 1352، أبو عوانة 311/1]
➍ اس بات پر اجماع ہے کہ حائضہ عورت سے ہم بستری و جماع کرنا حرام ہے۔ [نيل الأوطار 404/1]
(شیخ محمد بن ابراہیم آل شیخ) انہوں نے اس کے مطابق فتوی دیا ہے۔ [فتاوى المرأة المسلمة 280/1]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
فقہ الحدیث از عمران ایوب لاہوری، جلد اول، ص 279
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 279]

Sunan Ibn Majah Hadith 1923 in Urdu