سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. باب : المرأة تهب يومها لصاحبتها
باب: عورت کا اپنی باری سوکن کو ہبہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1973
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ سُمَيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ فِي شَيْءٍ، فَقَالَتْ صَفِيَّةُ: يَا عَائِشَةُ، هَلْ لَكِ أَنْ تُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِّي وَلَكِ يَوْمِي؟، قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ، فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ لِيَفُوحَ رِيحُهُ، ثُمَّ قَعَدَتْ إِلَى جَنْبِ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَائِشَةُ إِلَيْكِ عَنِّي إِنَّهُ لَيْسَ يَوْمَكِ"، فَقَالَتْ: ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ، فَأَخْبَرَتْهُ بِالْأَمْرِ فَرَضِيَ عَنْهَا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا پر کسی وجہ سے ناراض ہو گئے، تو صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: عائشہ! کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے راضی کر سکتی ہو، اور میں اپنی باری تم کو ہبہ کر دوں گی؟ انہوں نے کہا: ہاں، چنانچہ انہوں نے زعفران سے رنگا ہوا اپنا دوپٹہ لیا، اور اس پہ پانی چھڑکا تاکہ اس کی خوشبو پھوٹے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں بیٹھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ مجھ سے دور ہو جاؤ، آج تمہاری باری نہیں ہے“، تو انہوں نے کہا: یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اور پورا قصہ بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفیہ رضی اللہ عنہا سے راضی ہو گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1973]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کی کوئی بات ناگوار گزری (چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بے رخی کا اظہار فرمایا)، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے عائشہ! کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے راضی کر سکتی ہو؟ اور میرا (ایک) دن تمہارا ہوا۔“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے زعفران سے رنگی ہوئی اپنی ایک اوڑھنی لی، اس پر پانی چھڑکا تاکہ خوشبو مہک اٹھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ بیٹھیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! پرے رہو، آج تمہاری باری کا دن نہیں ہے۔“ انہوں نے کہا: ﴿ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ﴾ [سورة المائدة: 54] ”یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کر دیتا ہے۔“ اور پوری بات بتائی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے راضی ہو گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1973]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17844، ومصباح الزجاجة: 697)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/95، 145) (ضعیف)» (سند میں سمیہ بصریہ غیر معروف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥سمية البصرية سمية البصرية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | مقبول | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← سمية البصرية | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان عفان بن مسلم الباهلي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي ← عفان بن مسلم الباهلي | ثقة حافظ جليل | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن يحيى الذهلي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1973
| إليك عني إنه ليس يومك فقالت ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء فأخبرته بالأمر فرضي عنها |
Sunan Ibn Majah Hadith 1973 in Urdu
سمية البصرية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق