سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب : اليمين حنث أو ندم
باب: قسم کھانے میں یا قسم توڑنا ہوتی ہے یا شرمندگی ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 2103
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ بَشَّارِ بْنِ كِدَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الْحَلِفُ حِنْثٌ أَوْ نَدَمٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم یا تو حنث (قسم توڑنا) ہے یا ندامت (شرمندگی) ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2103]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7434، ومصباح الزجاجة: 739) (ضعیف)» (سند میں بشار بن کدام ضعیف راوی ہے)
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ قسم اکثر ان دونوں باتوں سے خالی نہیں ہوتی، آدمی اکثر غصے میں بے سوچے سمجھے قسم کھا بیٹھتا ہے کہ فلانی چیز نہ کھائیں گے، یا فلانے سے بات نہ کریں گے، پھر ایسی ضرورت پیش آتی ہے کہ قسم توڑنی پڑتی ہے، اور جب توڑے تو کفارہ دینا پڑا، مال بے فائدہ خرچ ہوا، اور ندامت اور شرمندگی بھی ہوئی، اگر نہ توڑا تو بھی ندامت ہوئی کہ قسم کی وجہ سے ایک لذت سے محروم رہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
بشار بن كدام: ضعيف (تقريب: 673)
وللحديث شاهد ضعيف موقوف عند الحاكم(303/4،304)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 454
إسناده ضعيف
بشار بن كدام: ضعيف (تقريب: 673)
وللحديث شاهد ضعيف موقوف عند الحاكم(303/4،304)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 454
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2103
| الحلف حنث أو ندم |
المعجم الصغير للطبراني |
64
| الحلف حنث أو ندم |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2103 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2103
اردو حاشہ:
فائدہ:
یہ روایت ضعیف ہے۔
صحیح روایت یہ ہے کہ غلط قسم توڑ کر کفارہ ادا کر دیا جائے اور جو کام صحیح ہو اسے کر لیا جائے۔
یہ اصرار نہ کیا جائے کہ میں نے فلاں کار خیر نہیں کرنا کیونکہ میں نے قسم کھا لی ہے۔
فائدہ:
یہ روایت ضعیف ہے۔
صحیح روایت یہ ہے کہ غلط قسم توڑ کر کفارہ ادا کر دیا جائے اور جو کام صحیح ہو اسے کر لیا جائے۔
یہ اصرار نہ کیا جائے کہ میں نے فلاں کار خیر نہیں کرنا کیونکہ میں نے قسم کھا لی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2103]
Sunan Ibn Majah Hadith 2103 in Urdu
محمد بن زيد القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي