🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب : النهي عن ثمن الكلب ومهر البغي وحلوان الكاهن وعسب الفحل
باب: کتے کی قیمت، زانیہ کی کمائی، کاہن کی اجرت اور نر سے جفتی کرانے کی اجرت کے احکام کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2160
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَعَسْبِ الْفَحْلِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، اور نر سے جفتی کرانے کے معاوضہ سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2160]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13407)، وقہ أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع 65 (3481)، سنن النسائی/الصید والذبائح 15 (4297) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: نر گھوڑا، اونٹ یا گدھا یا بیل یا بکرا وغیرہ کی مادہ جانوروں سے جفتی کرانے کی اجرت لینا منع ہے، البتہ اگر بطور احسان و سلوک کے بلا شرط کے کچھ دے دے، تو اس کا لینا جائز ہے اور نر کا عاریتاً دینا مستحب ہے، اور علماء کی ایک جماعت نے اس کی اجرت کی بھی اجازت دی ہے تاکہ نسل ختم نہ ہو، لیکن اکثر صحابہ اور فقہاء ان احادیث کی رو سے اس کی حرمت کے قائل ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سلمان مولى عزة، أبو حازم
Newسلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← سلمان مولى عزة
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن الفضيل الضبي، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن الفضيل الضبي ← سليمان بن مهران الأعمش
صدوق عارف رمي بالتشيع
👤←👥محمد بن طريف بن خليفة، أبو جعفر
Newمحمد بن طريف بن خليفة ← محمد بن الفضيل الضبي
ثقة
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← محمد بن طريف بن خليفة
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
4298
لا يحل ثمن الكلب لا حلوان الكاهن لا مهر البغي
سنن النسائى الصغرى
4677
كسب الحجام عن ثمن الكلب عن عسب الفحل
سنن النسائى الصغرى
4679
ثمن الكلب عسب الفحل
سنن أبي داود
3484
لا يحل ثمن الكلب لا حلوان الكاهن لا مهر البغي
سنن ابن ماجه
2160
ثمن الكلب عسب الفحل
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2160 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2160
اردو حاشہ:
فائدہ:
گائے، بھینس، بکری وغیرہ کونسل بڑھانے کے لیے نر کے پاس لے جای جاتا ہے۔
نر جانور کا مالک جفتی کے بدلے میں کچھ معاوضہ وصول کرتا ہے۔
یہ درست نہیں بلکہ یہ کام فی سبیل اللہ ہونا چاہیے، البتہ اگر مادہ جانور کا مالک اپنی مرضی سے مطالبہ کیے بغیر کچھ پیش کرے تو لے لینا جائز ہے۔
دیکھے:
(جامع الترمذي، البيوع، باب ماجاء في كراهية عسب الفحل، حديث: 1274)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2160]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3484
کتے کی قیمت لینا منع ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کتے کی قیمت حلال نہیں ہے، نہ کاہن کی کمائی حلال ہے اور نہ فاحشہ کی کمائی۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3484]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
اسلام اپنے معاشرے کو ان تمام نجاستوں اور قباحتوں سے پاک رکھنا چاہتا ہے۔
جو کتا پرست معاشرے کا خاصہ ہیں۔
اس غرض سے اسلام نے اس کی خریدوفروخت کو سختی سے روک دیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3484]

Sunan Ibn Majah Hadith 2160 in Urdu