🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب : بيع الخيار
باب: اختیاری خریداری کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2184
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، الْمِصْرِيَّانِ قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَعْرَابِ حِمْلَ خَبَطٍ، فَلَمَّا وَجَبَ الْبَيْعُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اخْتَرْ"، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: عَمْرَكَ اللَّهَ بَيِّعًا.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی (دیہاتی) سے ایک بوجھ چارا خریدا، پھر جب بیع مکمل ہو گئی، تو آپ نے اس سے فرمایا: تجھ کو اختیار ہے (بیع کو باقی رکھ یا منسوخ کر دے) تو دیہاتی نے کہا: اللہ آپ کی عمردراز کرے میں بیع کو باقی رکھتا ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2184]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/البیوع 27 (1249)، (تحفة الأشراف: 2834) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ایسی صورت میں جب طرفین بیع کو اختیار کر لیں تو خیار مجلس باقی نہ رہے گا، جیسے اوپر کی حدیث میں گزرا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1249)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← ابن جريج المكي
ثقة حافظ
👤←👥أحمد بن أبي موسى المصري، أبو عبد الله
Newأحمد بن أبي موسى المصري ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
👤←👥حرملة بن يحيى التجيبي، أبو حفص
Newحرملة بن يحيى التجيبي ← أحمد بن أبي موسى المصري
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2184
اشترى رسول الله من رجل حمل خبط فلما وجب البيع قال رسول الله اختر
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2184 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2184
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  حِمل (گٹھڑی یا گٹھڑ)
سے مراد کسی چیز کی وہ مقدار ہے جو آدمی ایک بار سر پر یا کمر پر اٹھا سکے۔

(2)
  خَبَط سے مراد درختوں کے وہ پتے ہیں جو ڈنڈے وغیرہ سے جھاڑے جاتے ہیں۔
یہ جانورں کے چارے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

(3)
  کسی چیز کے ڈھیر یا گٹھڑی کو ماپے تولے بغیر خریدنا اور بیچنا جائز ہے۔
کیونکہ وزن یا مقدار کا اندازہ دیکھ کر ہو جاتا ہے۔

(4)
  خیار مجلس کا حق جس طرح خریدنے والے کو حاصل ہوتا ہے اسی طرح بیچنے والے کو بھی حاصل ہوتا ہے۔

(5)
  کسی کو اس کے فائدے کی صورت کا مشورہ دینا مسلمان کی خیر خواہی میں شامل ہے، خاص طور پر جب کہ اسے مسئلہ معلوم نہ ہو۔

(6)
  احسان کرنے والےکے حق میں دعائے خیر کرنا اخلاقی فرض ہے۔

(7)
  یہ روایت بعض محققین کے نزدیک حسن ہے۔ دیکھیے: (صحیح سنن ابن ماجة للألبانی، رقم 1791، وسنن ابن ماجة بتحقیق محمد محمود حسن نصار، رقم: 2184)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2184]