علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب : النهي عن بيع الحصاة وعن بيع الغرر
باب: بیع حصاۃ اور بیع غرر ممنوع ہے۔
حدیث نمبر: 2195
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع غرر سے منع کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2195]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکے کی بیع سے منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2195]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5967)، ومصباح الزجاجة: 771)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/302) (صحیح)» (سند میں ایوب بن عتبہ ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2195
| بيع الغرر |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2195 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2195
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دھوکے کی بیع میں وہ سب صورتیں شامل ہیں جن میں خریدی اور بیچی جانے والی چیز کی مقدار کا اندازہ نہ کیا جا سکتا ہے، مثلاً:
دریا میں مچھلیوں کی فروخت، یا مادہ جانور کے پیٹ کے بچے کی خریدو فروخت۔
(2)
اگر جائز چیز کے ساتھ ضمناً ایسی چیز بھی فروخت ہو رہی ہو جس کی حقیقت معلون نہ ہو تو وہ جائز ہے، مثلاً حاملہ جانور فروخت کیا جائے تو اس کے ساتھ اس کے پیٹ کا بیچ بھی فروخت ہوتا ہے جسے الگ سے فروخت کرنا جائز نہیں لیکن ماں کے ساتھ اس کی بیع درست ہے۔
اس طرح مکان فروخت کرتے وقت اس کی بنیادیں بھی ساتھ ہی فروخت ہو جاتی ہیں، حالانکہ ان کے بارے میں یہ اطمینان کرنا مشکل ہے کہ وہ کتنی گہری اور کتنی موٹی ہیں۔
(3)
کنکری کی بیع سے مراد لاٹری کی وہ صورتیں ہیں جو اس دور میں رائج تھیں، مثلاً:
دکاندار گاہک سے کہتا کہ تم کنکری پھینکو جس چیز کو وہ کنکری لگے گی، میں وہ چیز تمہیں سو روپے کی دے دوں گا، جب کہ وہ چیزیں مقدار، معیار اور قدرو قیمت کے لحاظ سے مختلف ہویتں۔
آج کے دور میں لاٹری کی بہت سی صورتیں رائج ہیں، جیسے بعض کمپنیاں اپنی مصنوعات کی فروخت میں اضافہ کرنے کے لیے انعامی سکیمیں شروع کردیتی ہیں۔
یہ سب ”کنکری کی بیع“ کے حکم میں ہیں۔
(4)
جاہلیت میں کنکری کی بیع کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ تم کنکری پھینکو جہاں تک کنکری پہنچے گی میں اتنی زمین تمہیں فلاں قیمت میں دے دوں گا۔
یہ بھی منع ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
دھوکے کی بیع میں وہ سب صورتیں شامل ہیں جن میں خریدی اور بیچی جانے والی چیز کی مقدار کا اندازہ نہ کیا جا سکتا ہے، مثلاً:
دریا میں مچھلیوں کی فروخت، یا مادہ جانور کے پیٹ کے بچے کی خریدو فروخت۔
(2)
اگر جائز چیز کے ساتھ ضمناً ایسی چیز بھی فروخت ہو رہی ہو جس کی حقیقت معلون نہ ہو تو وہ جائز ہے، مثلاً حاملہ جانور فروخت کیا جائے تو اس کے ساتھ اس کے پیٹ کا بیچ بھی فروخت ہوتا ہے جسے الگ سے فروخت کرنا جائز نہیں لیکن ماں کے ساتھ اس کی بیع درست ہے۔
اس طرح مکان فروخت کرتے وقت اس کی بنیادیں بھی ساتھ ہی فروخت ہو جاتی ہیں، حالانکہ ان کے بارے میں یہ اطمینان کرنا مشکل ہے کہ وہ کتنی گہری اور کتنی موٹی ہیں۔
(3)
کنکری کی بیع سے مراد لاٹری کی وہ صورتیں ہیں جو اس دور میں رائج تھیں، مثلاً:
دکاندار گاہک سے کہتا کہ تم کنکری پھینکو جس چیز کو وہ کنکری لگے گی، میں وہ چیز تمہیں سو روپے کی دے دوں گا، جب کہ وہ چیزیں مقدار، معیار اور قدرو قیمت کے لحاظ سے مختلف ہویتں۔
آج کے دور میں لاٹری کی بہت سی صورتیں رائج ہیں، جیسے بعض کمپنیاں اپنی مصنوعات کی فروخت میں اضافہ کرنے کے لیے انعامی سکیمیں شروع کردیتی ہیں۔
یہ سب ”کنکری کی بیع“ کے حکم میں ہیں۔
(4)
جاہلیت میں کنکری کی بیع کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ تم کنکری پھینکو جہاں تک کنکری پہنچے گی میں اتنی زمین تمہیں فلاں قیمت میں دے دوں گا۔
یہ بھی منع ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2195]
Sunan Ibn Majah Hadith 2195 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي