علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب : النهي عن شراء ما في بطون الأنعام وضروعها وضربة الغائص
باب: جانوروں کے پیٹ اور تھن میں جو ہو اس کی بیع یا غوطہٰ خور کے غوطہٰ کی بیع ممنوع ہے۔
حدیث نمبر: 2196
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا جَهْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَمَانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شِرَاءِ مَا فِي بُطُونِ الْأَنْعَامِ حَتَّى تَضَعَ وَعَمَّا فِي ضُرُوعِهَا إِلَّا بِكَيْلٍ، وَعَنْ شِرَاءِ الْعَبْدِ وَهُوَ آبِقٌ، وَعَنْ شِرَاءِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ، وَعَنْ شِرَاءِ الصَّدَقَاتِ حَتَّى تُقْبَضَ، وَعَنْ ضَرْبَةِ الْغَائِصِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے پیٹ میں جو ہو اس کے خریدنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ جن دے، اور جو ان کے تھنوں میں ہے اس کے خریدنے سے بھی منع فرمایا ہے الا یہ کہ اسے دوھ کر اور ناپ کر خریدا جائے، اسی طرح بھاگے ہوئے غلام کو خریدنے سے، اور غنیمت (لوٹ) کا مال خریدنے سے بھی منع فرمایا یہاں تک کہ وہ تقسیم کر دیا جائے اور صدقات کو خریدنے سے (منع کیا) یہاں تک کہ وہ قبضے میں آ جائے، اور غوطہٰ خور کے غوطہٰ کو خریدنے سے (منع کیا) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2196]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے پیٹ کے بچے خریدنے سے منع فرمایا جب تک وہ پیدا نہ ہو جائیں، اور ان کے تھنوں میں موجود (دودھ) کو خریدنے سے منع فرمایا مگر ماپ کر، اور غلام کو خریدنے سے منع فرمایا جبکہ وہ مفرور ہو، اور غنیمت کی اشیاء خریدنے سے منع فرمایا حتیٰ کہ وہ تقسیم ہو جائیں، اور صدقات کی اشیاء خریدنے سے منع فرمایا حتیٰ کہ وہ (مستحقین کے) قبضے میں آ جائیں، اور غوطہ مارنے والے کے غوطے (سے حاصل ہونے والی چیز کی پیشگی خریداری) سے منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2196]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/السیر 14 (1563) مختصراً، (تحفة الأشراف: 4073)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/42) (ضعیف)» (سند میں محمد بن ابراہیم باہلی مجہول راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1293)
وضاحت: ۱؎:غوطہ خور کے غوطہ کو خریدنے کی صورت یہ ہے کہ غوطہ خور خریدنے والے سے کہے کہ میں غوطہ لگا رہا ہوں اس بار جو کچھ میں نکالوں گا وہ اتنی قیمت میں تیرا ہو گا یہ تمام بیعیں اس لئے ناجائز ہیں کہ ان سب میں غرر (دھوکا) اور جہالت ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1563)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457
إسناده ضعيف
ترمذي (1563)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2196
| عن شراء ما في بطون الأنعام حتى تضع وعما في ضروعها إلا بكيل عن شراء العبد وهو آبق عن شراء المغانم حتى تقسم عن شراء الصدقات حتى تقبض عن ضربة الغائص |
بلوغ المرام |
687
| نهى عن شراء ما في بطون الانعام حتى تضع، وعن بيع ما في ضروعها |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2196 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2196
اردو حاشہ:
فائدہ:
یہ سب صورتیں بیع غرر (دھوکے کی بیع)
میں شامل ہیں، البتہ دودھ کو ماپ کر خریدا جائے تو اس میں غرر نہیں رہتا، اس لیے وہ درست ہے۔
فائدہ:
یہ سب صورتیں بیع غرر (دھوکے کی بیع)
میں شامل ہیں، البتہ دودھ کو ماپ کر خریدا جائے تو اس میں غرر نہیں رہتا، اس لیے وہ درست ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2196]
Sunan Ibn Majah Hadith 2196 in Urdu
شهر بن حوشب الأشعري ← أبو سعيد الخدري