سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب : النهي عن الغش
باب: دھوکا دینا منع ہے۔
حدیث نمبر: 2225
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي الْحَمْرَاءِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِجَنَبَاتِ رَجُلٍ عِنْدَهُ طَعَامٌ فِي وِعَاءٍ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ، فَقَالَ:" لَعَلَّكَ غَشَشْتَهُ مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا".
ابوالحمراء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جس کے پاس ایک برتن میں گیہوں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس گیہوں میں ڈالا پھر فرمایا: ”شاید تم نے دھوکا دیا ہے، جو ہمیں دھوکا دے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2225]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11889، ومصباح الزجاجة: 781) (ضعیف جدا)» (سند میں ابوداؤد نفیع بن الحارث الاعمی متروک الحدیث راوی ہیں، امام بخاری نے ابوالحمراء کے ترجمہ میں کہا کہ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ صحابی ہیں، ان کی حدیث صحیح نہیں ہے، یعنی ابوداؤد الاعمی کے متروک الحدیث ہونے کی وجہ سے، نیز ملاحظہ ہو: تہذیب الکمال للمزی 33/ 258)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
أبو داود الأعمي متھم بالكذب
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 458
إسناده ضعيف جدًا
أبو داود الأعمي متھم بالكذب
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 458
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥هانئ بن الحارث الحمصي، أبو الحمراء | مختلف في صحبته | |
👤←👥نفيع بن الحارث الهمداني، أبو داود نفيع بن الحارث الهمداني ← هانئ بن الحارث الحمصي | متهم بالوضع | |
👤←👥يونس بن أبي إسحاق السبيعي، أبو إسرائيل يونس بن أبي إسحاق السبيعي ← نفيع بن الحارث الهمداني | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم الفضل بن دكين الملائي ← يونس بن أبي إسحاق السبيعي | ثقة ثبت | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← الفضل بن دكين الملائي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2225
| لعلك غششته من غشنا فليس منا |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2225 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2225
اردو حاشہ:
فائدہ:
یہ روایت ضعیف ہے، گویا یہ قصہ صحیح نہیں، تاہم ”جس نے ہمیں دھوکا دیا، وہ ہم میں سے نہیں۔“
یہ جملہ دوسری صحیح سند ثابت ہے، جیسے صحیح مسلم میں مروی ہے۔ دیکھیے: (صحيح مسلم، الإيمان، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم من غشنا فليس منا، حديث: 101)
فائدہ:
یہ روایت ضعیف ہے، گویا یہ قصہ صحیح نہیں، تاہم ”جس نے ہمیں دھوکا دیا، وہ ہم میں سے نہیں۔“
یہ جملہ دوسری صحیح سند ثابت ہے، جیسے صحیح مسلم میں مروی ہے۔ دیکھیے: (صحيح مسلم، الإيمان، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم من غشنا فليس منا، حديث: 101)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2225]
نفيع بن الحارث الهمداني ← هانئ بن الحارث الحمصي